ہندی یا ہندو؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption نجمہ ہپت اللہ مولانا عبدالکلام آزاد کے خاندان سے ہیں اور مودی سرکار میں اقلیتوں کے امور کی وزیر ہیں

ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ بلا لحاظ مذہب اور رنگ و نسل ہندو کہلائے جانے چاہییں یا ہندی؟

یہ سوال ہندو نظریاتی تنظیموں کے سامنے رکھا جائے تو جواب ’ہندو‘ ہے۔ دوسرا ممکنہ جواب علامہ اقبال نے 1904 میں ’ترانۂ ہندی‘ میں یہ کہہ کر دیا تھا کہ ’ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا۔۔۔‘

اب اقلیتوں کے امور کی وفاقی وزیر نجمہ ہپت اللہ نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر پھر ایک تنازع پیدا کر دیا ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کو ’قومی شناخت‘ کے لحاظ سے ’ہندو‘ کہا جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔

نجمہ ہپت اللہ کا تعلق کانگریس کے سینیئر لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد کے خاندان سے ہے جنھوں نے تقسیم ہند کی پرزور مخالفت کی تھی۔

اس بیان پر تنقید کے بعد نجمہ ہپت اللہ نے وضاحت کی ہے کہ انھوں نے ’ہندو‘ نہیں ’ہندی‘ لفظ کا استعمال کیا تھا اور سینیئر صحافی ضیا الحق سے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔

لیکن ضیاء الحق نے اخبار ہندوستان ٹائمز میں ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ ہندو ہیں، اس نظریے کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔۔۔ یہاں رہنے والے لوگوں کو قومی شناخت کے اعتبار سے ہندو کہا جاتا تھا۔۔۔ ہمیں تاریخ نہیں بھولنی چاہیے۔‘

حکمراں بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کا یہ پرانا موقف ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ ثقافتی اعتبار سے ہندو ہیں اور اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 17 اگست کو تنظیم کے سربراہ موہن بھگوت نے کہا تھا کہ انڈیا ’ہندو راشٹر (ملک)‘ ہے۔

نجمہ ہپت اللہ کے بیان کے بعد کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اب آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے نظریے کو عملی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

کانگریس کی ترجمان ریتا بہوگنا نے کہا کہ ’ہم پہلے سے کہتے رہے ہیں کہ یہ حکومت آر ایس ایس کے اشاروں پر ہی چل رہی ہے۔‘

لیکن جمعے کی صبح نجمہ ہپت اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’میں نے ہندی لفظ کا استعمال کیا تھا، اس لڑکے نے اسے غلطی سے ہندو سمجھ لیا، جب بھی ہندوستان کے لوگ عرب ملکوں میں جاتے ہیں انھیں ہندی کہا جاتا ہے، ایران میں یہاں کے لوگوں کو ہندوستانی کہا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی لکھا تھا کہ ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا۔‘

ضیاء الحق کے مطابق جب انھوں نے وزیر سے پوچھا کہ کیا ہندوستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ’ہندو مسلمان یا ہندو عیسائی‘ کہنا درست ہوگا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’بات صحیح یا غلط کی نہیں ہے، اگر کچھ لوگ مسلمانوں کو ہندی یا ہندو کہیں تو انھیں اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ان کے مذہب پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ نجمہ ہپت اللہ کسی تنازعے میں گھری ہیں۔ اقلیتی امور کی ذمہ داری سنبھالنے کے فوراً بعد بھی انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اقلیت کہنا درست نہیں ہے (کیونکہ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے) اقلیت تو پارسی ہیں۔ ہمیں انھیں بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں