کیا سبھی بھارتی ہندو ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئندہ ہفتے جب مودی حکومت اپنے اقتدار کے 100 دن پورے کر رہی ہو گی

بھارت کی ایک ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کا نعرہ ہے’گرو (فخر) سے کہو ہم ہندو ہیں۔‘

بھارت میں گذشتہ کچھ ہفتوں سے یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ بھارت کے سبھی باشندوں کو کیوں نہ ہندو کہا جائے۔ ابھی تک انھیں انڈین ، بھارتی اور ہندوستانی کہا جاتا رہا ہے۔

لیکن بعض سرکردہ ہندو تنظیموں کی دلیل یہ ہے کہ تاریخی، نسلی اور ثقافتی اعتبار سے بھارت کے ہر باشندے کو ہندو ہی کہا جانا چاہیے۔

سب سے پہلے یہ بحث ہندو نظریاتی تنطیم کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایک تقریب میں تقریر کرتے ہو ئے شروع کی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کا ہر باشندہ ہندو ہی کہلایا جانا چاہیے۔ پچھلے چند دنوں میں مودی حکومت کے کئی وزیر بھی ہندو اور ہندوتوا وغیرہ کی تشریح کر چکے ہیں۔

یہ بحث ایک ایسے وقت میں چھڑی ہے جب وشو ہندو پریشد، آر ایس ایس اور حکمراں بے جے پی کے قدرے سخت گیر اور ہندو نواز گروپ نے شمالی ہندوستان بالخصوص اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف ایک تحریک شروع کی ہے جس کا مقصد بقول ان کے ہندو لڑکیوں کو مسلم لڑکوں سے شادی کرنے سے روکنا ہے۔

بی بے پی اور ہندو گروپوں کا کہنا ہے کہ مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کو محض انھیں مسلمان بنانے کے لیے شادی کرتے ہیں اور یہ ہندوؤں کو مسلمان بنانے کی ایک منظم سازش ہے۔اسے انھوں نے ’لو جہاد‘ کا نام دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر مشتہر کیے جانے والے پراپیگنڈے کے مطابق مسلمانوں کے اس ’لو جہاد‘ کے لیے کئی مسلم ممالک فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم بالخصوص جنسی جرائم کے بیشتر واقعات میں مسلم نوجوان ملوث ہوتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 13 برس قبل گجرات میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسی طرح کی تحریک ہندو تنطیموں نےگجرات میں بھی شروع کی تھی اور کئی شادی شدہ جوڑوں کو تشدد اور بائیکاٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا جن میں لڑکی کا تعلق ہندو مذہب سے تھا۔

آر ایس ایس اور ہندو تنظیمیں اسی طرح کی تحریک کیرالہ میں بھی چلا چکی ہیں اور وہاں تو باضابطہ مبینہ ’لو جہاد‘ کی سی بی آئی سے انکوائری بھی کرائی گئی تھی۔ یہ تحریک ایک مختضر عرصے کے بعد ختم ہو گئی اور تمام دھمکیوں اور خطروں کے باوجود جن کو جہاں شادی کرنی ہے وہ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آر ایس ایس اور ہندو تنظیمیں اسی طرح کی تحریک کیرالہ میں بھی چلا چکی ہیں

ہندوتوا کی بحث ہو یا ’لو جہاد‘ کے نام پر مسلمانوں اور ان کے مذہب کو ہدف بنانے کی تحریک، ان سے مودی حکومت کے بارے میں شکوک پیدہ ہونے لگے ہیں۔

مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران صرف ترقی اور بہتر نظام کے قیام کے نام پر ہی عوام سے ووٹ مانگا تھا۔ ابھی گذشتہ ماہ یو م آزادی کے اپنے خطاب میں بھی وزیراعظم نے اسی ایجنڈے کا اعادہ کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ترقی کے لیے 10 برس کا موقع دیں اور اس مدت میں مذہب اور ذات پات کے نام پر دنگے اور فسادات ہونے دیں۔

تو پھر کیا یہ مودی کے ترقی کے ایجنڈے کو ناکام کرنے کی کوشش ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی اس وقت اندورنی طور پر نظریاتی تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ عناصر ہیں جو ایک فیصلہ کن انتخابی فتح کے بعد ملک کے نظام کو ہندوتوا کے طرز پر تبدیل کرنا جاہتے ہیں اور وہ بہت جلدی میں ہیں۔

انھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر مودی کا ترقی کا ایجنڈہ زمین پر نظر آنے لگا اور لوگ ملک میں ایک مثبت اقتصادی تبدیلی کو محسوس کرنے لگے تو ان کے ہندوتوا کے نطریے کو شکست ہو جائے گی اور عوام کی تمناؤزں امنگوں اور خوابوں کی آندھی میں ان کی سیاسی معنویت کھو جائے گی۔ اسی لیے اس نظریے میں یقین رکھنے والی ساری تنطیمیں، گروپ اور انفرادی رہنما ایک ساتھ باہر آ گئے ہیں۔ یہ ان کے نظریاتی وجود کی آخری جنگ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم مودی اور ان کے وہ ساتھی ہیں جو خاموشی سے بھارت کی ایک نئی تقدیر لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی باتوں، بیانات اور وعدوں سے عوام کی تمناؤں کو ایک نئی اونچائی پر پہنچایا ہے۔

اب ان وعدوں کو حقیقی روپ دینے کا چیلنج سامنے ہے۔ ڈھائی مہینے کے اقتدار میں ملک کی معیشت پچھلے ڈھائی برس کی سب سے اونچی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ آئندہ ہفتے جب مودی حکومت اپنے اقتدار کے 100 دن پورے کر رہی ہو گی اس وقت حکومت پہلے ہی کئی محاذوں پر دور رس بنیادی تبدیلیوں کا آغاز کر چکی ہو گی۔

مودی حکومت کے سامنے چیلنج بہت بڑا ہے لیکن وہ اپنے ایجنڈے کی ڈگر پر تیزی سے رواں ہے۔تجزیہ کار یہی کہہ رہے ہیں کہ مودی حکومت نے اپنے اقتدار کے سو دن اپنے وعدے کے عین مطابق پورے کیے ہیں۔

اسی بارے میں