بھارتی دیہات کے لیے سستے ٹوائلٹس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کی نصف آبادی کے گھروں میں ٹوائلٹ نہیں ہیں

ایک بھارتی فلاحی تنظیم نے ایک گاؤں میں 108 نئے ٹوائلٹس متعارف کروائے ہیں۔ مئی کے مہینے میں اسی گاؤں میں دو نوجوان لڑکیوں کی لاشیں درخت سے لٹکتی ہوئی پائی گئی تھیں۔

یہ لڑکیاں اترپردیش کے گاؤں کٹرا شہادت گنج میں کھیتوں میں رفعِ حاجت کے لیے گئی تھیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ٹوائلٹ نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو دور جانا پڑتا ہے کہ جس سے ان کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بھارت کی ایک ارب 20 کروڑ آ:بادی میں سے تقریباً نصف کے گھروں میں ٹوائلٹ نہیں ہیں۔ اتوار کے روز فلاحی تنظیم ’سلبھ انٹرنیشنل‘ نے شوخ رنگوں والے سستے ٹوائلٹس متعارف کروائے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ اس کا ارادہ ہے کہ یہ سہولت بھارت کے ہر گھر میں فراہم کروائی جائے۔

تنظیم کے بانی بندیشور پاتھک نے کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ کسی عورت کی جان اس لیے نہیں جانی چاہیے کہ اسے رفعِ حاجت کے لیے گھر سے باہر جانا پڑتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ mansi
Image caption بھارت میں کروڑوں خواتین کو حوائجِ ضروریہ کے لیے گھروں سے دور کھیتوں میں جانا پڑتا ہے

انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمارا ارادہ ہے کہ مستقبل قریب میں ملک کے ہر گھر میں ٹوائلٹ فراہم کیا جائے۔ ‘

کٹرا شہادت گنج میں دو لڑکیوں کے قتل کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ انھیں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ بھارت کی بےشمار دوسری خواتین کی طرح اندھیرے میں کھیتوں میں گئی تھیں۔

15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقعے پر تقریر کرتے ہوئے بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی کھلے میں رفعِ حاجت کو ختم کرنے کا عہد کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا: ’ہم 21ویں صدی میں ہیں اور اس کے باوجود عورتیں اندھیرے کا انتظار کرتی ہیں اور پھر گھروں سے باہر جاتی ہے۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس کی وجہ سے کتنے مسائل پیدا ہوتے ہیں؟‘

اسی بارے میں