بھارت اور جاپان کی جوہری منصوبہ بندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دونوں ملکوں نے نیوکلیئر توانائی کے حوالے سے معاہدے کے متعلق بات چیت میں تیزی لانے پر زور دیا

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کے جاپانی ہم منصب شنزو ایبے نے دونوں ملکوں کے مابین جوہری توانائی کے حوالے سے معاہدے سے متعلق بات چیت میں تیزی لانے پر زور دیا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم، جو اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ہیں، نے جاپان پر اسحلے کی درآمد کے خلاف پابندی ختم ہونے کے فیصلے پر بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سکیورٹی کے معاملے پر شراکت میں توسیع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

نریندر مودی کا جاپان کا یہ دورہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر وسوخ کے خلاف توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

سنیچر کے روز جاپان پہنچنے والے مودی نے ملک کے ایک سابقہ شاہی شہر کا دورہ بھی کیا۔

دونوں سربراہان نے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا جس میں انھوں نے جاپان اور بھارت کے درمیان دفاعی شراکت کے موضوع کو اہم قرار دیا اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا۔

دونوں ملکوں نے جوہری توانائی کے حوالے سے معاہدے کے متعلق بات چیت میں تیزی لانے پر زور دیا تاہم وہ مشترکہ معاہدہ کرنے میں فی الوقت ناکام رہے، جس کی وجہ جاپان کے خدشات بتائے جاتے ہیں۔

دِلی اور ٹوکیو نے دونوں ملکوں کے مابین سرمایہ کاری کو دو کھرب ڈالر سے بڑھا کر دُگنا کرنے کا بھی ہدف مقرر کیا۔

جاپانی وزیرِ اعظم شنزو ایبے نے اگلے پانچ سالوں میں جاپان کی بھارت میں نجی اور سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی بات کی اور بھارتی کمپنی ’انڈیا انفراسٹرکچر کمپنی‘ کو 480 لاکھ ڈالر کا قرضہ دینے کی بات بھی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دونوں ملکوں نے مشترکہ دفاعی جنگی تیاریوں اور مشترکہ بحری دفاع کے موضوع پر بھی بات کی

دونوں ملکوں کے مابین تیز رفتار ریل کے منصوبے، اور بھارتی دریا گنگا سمیت دوسرے دریاؤں کو صاف کرنے پر جاپانی تعاون کی بھی بات کی گئی۔

اس کے علاوہ جاپان نے بھارت سے موبائل فون میں استعمال ہونے والا الیکٹرانک خام مال بھی برآمد کرنے کے معاہدہ پر دستخط کیے۔

جاپان کا بیشتر الیکٹرانک خام مال چین سے آتا ہے۔ یہ خام مال موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلوں میں استعمال ہوتا ہے۔

دونوں ملکوں نے مشترکہ دفاعی جنگی تیاریوں اور مشترکہ بحری دفاع کے موضوعات پر بھی بات کی۔

صحافیوں کے مطابق مودی کا یہ دورہ بھارت کی بین الاقوامی سطح پر ساکھ بہتر بنانے کے لیے اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو کم کرنے کے لیے ہے۔

اسی بارے میں