نالندہ یونیورسٹی کا آٹھ سو سال بعد احیا

Image caption اپنے عروج کے زمانے میں نالندہ یونیورسٹی میں نہ صرف ہندوستان کے طول و عرض سے بلکہ تبت، چین، ایران، حتیٰ کہ یونان تک سے طلبہ حصولِ تعلیم کے لیے آتے تھے

بھارت میں ایک یونیورسٹی نے تقریباً 830 سال کے بعد دوبارہ کلاسیں شروع کر دی ہیں۔ نالندہ یونیورسٹی اس وقت حملے میں تباہ ہو گئی تھی۔

یہ یونیورسٹی پانچویں صدی عیسوی میں قائم کی گئی تھی اور اس کا شمار دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں ہوتا تھا۔

فی الحال مشرقی ریاست بہار میں یہ یونیورسٹی 15 طلبہ اور 11 اساتذہ کے ساتھ ایک سرکاری عمارت میں کلاسیں شروع کرے گی۔ تاہم انتظامیہ نے راج گیر پہاڑی کے دامن میں 444 ایکڑ سے زیادہ زمین حاصل کر لی ہے جہاں یونیورسٹی کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔

فی الحال کل سات میں سے دو شعبوں میں تعلیم شروع ہو گی۔

نالندہ یونیورسٹی کو دو بار تباہ کیا جا چکا ہے۔ 1193 میں ترک حکمران بختیار خلجی نے حملہ کر کے یونیورسٹی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ اپنے عروج کے زمانے میں یہاں نہ صرف ہندوستان کے طول و عرض سے بلکہ تبت، چین، ایران، حتیٰ کہ یونان تک سے طلبہ حصولِ تعلیم کے لیے آتے تھے۔

ساتویں صدی عیسوی میں چینی راہب یی جِنگ نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے اس کے بارے میں لکھا تھا: ’اگر یہاں کوئی اختلافِ رائے ہوتا ہے تو کسی کو اپنی بات منوانے کے لیے مجبور نہیں کیا جاتا۔ کسی طالبِ علم کو مارا پیٹا نہیں جاتا۔‘

شاید اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر گوپا سبراوال کہتے ہیں کہ اس دانش گاہ کی نئی ابتدا کو دانستہ طور پر ’دھیما‘ رکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں