نریندر مودی کی حکومت کے پہلے 100 دن کا احوال

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ افواہیں گرم ہیں کہ مودی نے وزیر داخلہ کے بیٹے کو بلاکر ڈانٹا کیونکہ وہ میبنہ طور پر کچھ افسروں کے تبادلے کرانے کی کوشش کر رہے تھے

100 دن کسی بھی حکومت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے کم ہیں لیکن یہ بات وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر نافذ نہیں ہوتی۔ جو لوگ انہیں پسند کرتے تھے وہ اب بھی کرتے ہیں، جو نہیں کرتے تھے وہ اب بھی نہیں کرتے۔

پہلے 100 دنوں میں یا تو کافی کچھ ہوا ہے یا کچھ نہیں ہوا، سب نظریے کی بات ہے، بس انحصار اس بات پر ہے کہ آپ پہلے گروپ میں شامل ہیں یا دوسرے!

حکومت بڑی بڑی پالیسیوں کا اعلان کر رہی ہے، معیشت کے واپس پٹری پر لوٹنے کے آثار ہیں، سرکاری افسر وقت پر آفس پہنچ رہے ہیں، پرانی رکی ہوئی فائلیں چلنا شروع ہوگئی ہیں، سڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکے دیے جارہے ہیں، پاکستان سےبات چیت منسوخ کر دی گئی ہے، فوجی ساز و سامان کے بڑے بڑے سودوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، ملک کو ہتھاروں کے امپورٹر سے ایکسپورٹر بنانے کی کوشش ہے، بلیٹ ٹرین آنے کو ہے، شاید جاپان کے دورے سے جب وزیر اعظم لوٹیں گے تو ساتھ بھی لاسکتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس پر سوار ہوکر ہی آئیں، گنگا صاف ہونے کو ہے، سو سمارٹ شہر بننے کو ہیں، ہر ہندوستانی کا یا کم سے کم ہر گھر میں سے ایک ہندوستانی کا بینک کھاتہ کھلنے کو ہے۔۔۔ فہرست لمبی ہے بس یوں سمجھیے کہ زندگی بدلنے کو ہے اور شاید اچھے دن آنے کو ہیں بس کسی وجہ سے بی جے پی کے رہنماؤں نے اچانک اچھے دنوں کا ذکر کرنا بند کردیا ہے۔

لیکن یہ سب کچھ ہوگا یانہیں، 100 دن فیصلہ سنانے کے لیے کم ہیں۔

پہلے 100 دنوں میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا ہے۔ ’لو جہاد‘ سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بن گیا ہے، لو جہادیوں کا لشکر کتنا بڑا ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن بی جے پی کے کچھ رہنما مانتے ہیں کہ یہ لو جہادی جادوگر ہیں، معصوم ہندو لڑکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہیں اور وہ ان پر فدا ہو جاتی ہیں، دوسرے رہنماؤں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگوں کو ہندو کہا جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں لیکن اگر سب ہندو ہوں گے تو لو جہاد کیسے ہو گا؟ اگر لو جہاد نہیں ہو گا تو سیاست کیسے ہوگی؟ اگر سیاست نہیں ہوگی تو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی پسند سے شادی کرسکیں گے اور اگر ایسا ہوا تو پھر کیا ہوگا؟ شاید صرف لو ہوگا جہاد نہیں۔

اخبارات پڑھنے سے لگتا ہے کہ ملک میں مذہبی منافرت بڑھی ہے، اخباروں میں تجزیہ نگار پوچھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم خود کیوں خاموش ہیں؟ کیا انہیں نفرت پھیلانے والوں کو واضح پیغام نہیں دینا چاہیے کہ وہ خود کو لگام دیں؟ شاید وہ جاپان سے لوٹ کر اخبارات پڑھیں گے اور پھر فرمان جاری کریں گے لیکن جب وہ اخبار پڑھیں گے تو ان کی نظر پھر ان افواہوں پر جائے گی کہ وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مودی اس وقت جاپان کے دورے پر ہیں

ہفتوں سے یہ افواہیں جاری ہیں کہ انھوں نے وزیر داخلہ کے بیٹے کو بلاکر ڈانٹا کیونکہ وہ میبنہ طور پر کچھ افسروں کے تبادلے کرانے کی کوشش کر رہے تھے، بات اتنی بڑھی کہ خود راج ناتھ سنگھ، وزیر اعظم کے دفتر اور پارٹی کے صدر امت شاہ نے الگ الگ بیان جاری کرکے اس کی تردید کی! ایسی ہی کئی دوسری افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں، حیرت انگیز لیکن ناقابل یقین۔

چونکہ یہ افواہیں ہیں، لہٰذا جھوٹ ہی ہوں گی لیکن انہیں پھیلانے والوں کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ وزیر اعظم کی نگاہ سب پر ہے، وہ سب دیکھ رہے ہیں!

معلوم نہیں کہ سب پر نگاہ رکھنا اچھی بات ہے یا خراب، لیکن بگڑتے ہوئےماحول کو وہ اگر دیکھ کربھی ان دیکھا کر رہے ہیں تو ان کے 100 دن کے رپورٹ کارڈ پر یہ ایک نہ دھلنے والا بد نما داغ ہوگا۔

ایسے حالات میں تو من موہن سنگھ بھی اپنی خاموشی توڑ دیا کرتےتھے!

اسی بارے میں