بھارت: نوجوان لڑکی کی تذلیل کے بعد لاش برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مغربی بنگال کی پولیس کو شبہ ہے کہ اس 15 سالہ لڑکی کو ریپ کرنے کے بعد قتل کیا گیا ہے

بھارت کے مشرقی حصے میں ریلوے لائن کے قریب ایک نوجوان لڑکی کی نیم عریاں لاش ملی ہے جسے مبینہ طور پرگاؤں کی پنچایت نے اس کے باپ کو دھمکانے کے خلاف احتجاج کرنے پر تذلیل کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

مغربی بنگال کی پولیس کو شبہ ہے کہ اس 15 سالہ لڑکی کو ریپ کرنے کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی کے خاندان کا کہنا ہے کہ اسے زمین پر تھوک پھینک کر چاٹنے پر مجبور کیا گیا جسے انسانی تذلیل کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کےگاؤں میں قائم غیر سرکاری عدالتیں یا پنچایتیں عام شہریوں کو مقامی رسوم و رواج کی خلاف ورزی کرنے پر سزائیں سناتی ہیں۔

بھارتی دارالحکومت دہلی میں سنہ 2012 میں ایک نوجوان لڑکی طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں لڑکی کو شدید زخمی کیا گیا تھا۔ ان کا پہلے دلی کے ہسپتال اور پھر سنگاپور میں علاج ہوا لیکن علاج کے دوران ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

بھارت میں اس واقعے کے خلاف شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد حکومت نے خواتین کے ساتھ ہونے والے جنسی زیادتی کی روک تھام کے لیے سخت قوانین بنائے تھے تاہم ان واقعات میں کمی نہیں آئی۔

کولکتہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار امیتابھا بھٹاسالی کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکی کی لاش ریلوے ٹریک کے پاس اس کے ایک دن بعد ملی جب ایک پنچایت نے انھیں اور ان کے والد کو ایک ٹریکٹر پر ہونے والے تنازعے کو حل کرنے کے لیے بلایا تھا۔

متاثرہ لڑکی کے خاندان نے پولیس کو بتایا کہ جب لڑکی نے اپنے باپ کو ڈرانے دھمکانے پر احتجاج کیا تو پنچایت کے بڑوں نے ’اسے سنگین نتائج کی دھمکی‘ دی تھی۔

گاؤں کے افراد کا کہنا ہے کہ پنچایت کی کارروائی کے دوران ہی لڑکی ’غائب‘ ہو گئی اور اگلی صبح اس کی لاش ملی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے خاندان نے گاؤں کے 13 افراد کے خلاف شکایت درج کروائی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

بھارت میں سنہ 2012 میں دہلی کی ایک بس میں میں ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد اس معاملے پر بہت بحث ہوئی تھی۔

اس واقعے پر ملک گیر پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود ریپ کے جرائم میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔

اسی بارے میں