افغانستان: ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان صدارتی انتخابات کے دونوں امیدوار ایک دوسرے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں

افغانستان میں حکام کے مطابق ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل مکمل ہو گیا ہے تاہم اس کے نتائج کا اعلان کچھ دنوں تک نہیں کیا جائے گا۔

اس سے پہلے افغانستان کے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کی دوبارہ گنتی کے دوران دھاندلی کے خدشات پر اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا تھا۔

ان کے حریف اشرف غنی نے بھی اقوامِ متحدہ کی درخواست پر اپنی ٹیم کو واپس بلا لیا تھا۔

افغان صدارتی انتخابات کے دونوں امیدوار ایک دوسرے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

دونوں امیدواروں نے افغانستان میں قومی یکجہتی پر مشتمل حکومت بنانے پر اتفاق کیا تھا تاہم وہ کسی معاہدے تک پنچنے میں ناکام رہے تھے۔

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جون میں ہوئی تھی تاہم دونوں امیدواروں کی ایک دوسرے پر دھاندلی کا الزام عائد کرنے کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل جولائی میں شروع ہوا تھا۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ کاسٹ ہونے والے تمام 80 لاکھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی، ان کی ڈیٹا انٹری اور ان کی شکایتوں کے لیے 72 گھنٹوں تک جائزہ لینے کے بعد انتخابی نتائج کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

افغان مبصرین نیٹ ورک ریسرچ آرگنائزیشن کے مطابق اب تک صرف چند سو بیلٹ باکس کو مکمل طور پر جعلی قرار دیا گیا ہے تاہم مزید کئی بیلٹ باکس کو بھی جعلی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدارتی نتائج کا اعلان دس ستمبر کو کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گذشہ ماہ کہا تھا کہ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے دوسرے مرحلے کے صدارتی انتخابات میں ڈالے جانے ووٹوں کی دوبارہ مکمل گنتی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

جان کیری نے گذشتہ ماہ کابل میں افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی سے بات چیت کے بعد کہا تھا کہ تمام 80 لاکھ ووٹوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جائے گی جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں