’جہاد‘ کے لیے عراق جانے والے پاکستانی ایران میں گرفتار

Image caption دولت اسلامی کے جنگجو عراق اور شام کے وسیع علاقے پر قابض ہیں

ایران کی حکومت کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے جو ایران کے راستے عراق جا کر دولت اسلامی کے جنگجـوؤں میں شامل ہونا چاہتے تھے۔

ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ ایران کے راستے عراق جانا چاہ رہے تھے جنہیں ایران میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی جس نے ایرانی وزیر داخلہ کا بیان جاری کیا اس نے گرفتار ہونے والی افغان اور پاکستانی شہریوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

ایران کی سرحدیں مشرق میں پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہیں جبکہ اس کے مغرب میں عراق واقع ہے۔

ایرانی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں پوری طرح چوکس ہیں۔ شیعہ اکثریت والے ممالک عراق اور ایران کے عراق کے سابق صدر صدام حسین کے خاتمے کے بعد سے قریبی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔

عراق سے امریکی فوجیں سنہ 2011 میں نکل گئیں تھیں لیکن حالیہ مہینوں میں دولت اسلامی کے جنگجوؤں کی شام اور عراق میں پیش قدمی کے باعث امریکی فوجیں ایک مرتبہ پھر فضائی کارروائیاں کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

اسی بارے میں