’ہندو عورتیں مسلمان لڑکوں سے دور رہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب کوئی جودھا بائی اکبر کے پاس نہیں جائے گی: لکھنؤ سے بے جے پے کے رہنماکا اعلان

بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی کے بعض عہدیدار، بالخصوص اترپردیش سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ، مسلسل یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ مسلمان مرد ہندو عورتوں کو مذہب تبدیل کروا کے ان سے شادی کر رہے ہیں۔

بی جے پی کے کسی سینیئر عہدیدار نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے لیکن پارٹی کے بعض ممبران مسلسل ’لَوجہاد ‘ کی بات کر رہے ہیں۔

بھارت کے موقر اخباروں میں چھپنے والی حالیہ رپورٹوں کے مطابق جوں جوں اترپردیش، بہار اور جھارکھنڈ میں ضمنی انتخابات کی تاریخ نزدیک آتی جا رہی ہے، بی جے پی کے مقامی رہنما ’لو جہاد‘ کی بات زور شور سے کر رہے ہیں۔

بی جے پی کے رہنما ووٹروں سے کہہ رہے ہیں کہ انڈیا میں مسلمانوں کا آبادی میں اضافے کے لیے ملک کے اسلامی مدرسوں میں یہ سازش تیار کی گئی ہے کہ مسلمان مرد ہندو عورتوں کو محبت کا جھانسہ دے کر انھیں مذہب کی تبدیلی پر آمادہ کریں۔

بی جے پی کے جو رہنما ’لو جہاد‘ کی بات کر رہے ہیں ان میں اترپردیش ممبر پارلیمنٹ گورکھ پور، یوگی ادتیناتھ ، اور بی جے پی کے ریاستی چیف لکشمی کنت باجپائی، اور لکھنئو کے میئر دنیش شرما پیش پیش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہندو عورتوں کو مسلمان بنانے والوں کو مالی فوائد مہیا کیے جاتے ہیں

اتوار کے روز بجنور میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یوگی ادتیناتھ نے کہا کہ ’لو جہاد‘ ایک سماجی بیماری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مدرسوں کو مالی امداد دی ہے جہاں ہندو عورتوں کو مسلمان بنانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

دنیش شرما نے اجتماع سے خطاب کے دوران مغل بادشاہ اکبر کی ہندو شہزادی جودھابائی سے شادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’اب کوئی جودھا بائی اکبر کے پاس نہیں جائے گی۔‘

بی جے پی کے ایک اور رہنما ہری شکشی مہاراج نے الزام عائد کیا کہ ایسے مسلمان مردوں کو مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے جو ہندو عورتوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مائل کر لیتے ہیں۔

روزنامہ ہندو نے ہندو تنظیم شیو سینا کے ترجمان اخبار سمنا میں چھپنے والے ایک اداریے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اداریے میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگت کا حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو مسلمان مردوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

شیو سینا نے بدھ کے روز کہا کہ ہندو لڑکیوں کو مذہب تبدیل کرانے کی ایک عالمی سازش کی جا رہی ہے تاکہ ہندو ثقافت کو تباہ کیا جائے۔

شیو سینا نے کہا: ’مسلمان دہشت گرد تنظیموں، لشکر طیبہ، سیمی، اور القاعدہ نے ہندوستان کے تشخص کو اسلامی بنانے کے لیے اس کے خلاف جہاد کا اعلان کر رکھا ہے اور’لوجہاد‘ بھی انھی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔

گذشتہ برس اترپردیش میں بڑے پیمانے پر مذہبی فسادات کے دوران مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے قانون ساز سنگیت سوم نے اب لَوجہاد پر ایک مہا پنچایت بلانے کا اعلان کیا ہے۔

سنگیت سوم کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں منظم انداز میں لَوجہاد کی تربیت دے رہی ہیں۔

مدھیہ پردیش نے بے جے پی کے ایم ایل اے نے کہا کہ مسلمان مردوں کو ہندو تہواروں میں نہ آنے دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مسلمان مرد ہندو تہواروں میں آنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انھیں پہلے ہندو دھرم قبول کرنا ہو گا۔