کشمیر: سیلاب متاثرین کا بڑھتا ہوا غصہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں اب تک 450 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے والے سیلاب کے بعد حکومت کی جانب سے اس بحران کو حل کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرنے کے مبینہ الزامات کے بعد مقامی افراد میں غصہ بڑھ رہا ہے۔

سری نگر میں سیلاب سے متعدد گھر اور ہسپتال زیرِ آب آ چکے ہیں اور لوگوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں اب تک 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیلاب کے متاثرہ افراد نے امدادی ٹیموں پر پتھراؤ کیا ہے جس کے بعد ان ٹیموں نے اپنی مدد کے لیے فوج کی خدمات حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اطلاعات کے مطابق متاثرہ افراد نے سپاہیوں پر پتھراؤ کیا تاہم فوجی حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ متاثرہ افراد مایوس ہیں تاہم اس کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سری نگر میں سیلاب سے متعدد گھر اور ہسپتال زیرِ آب آ چکے ہیں اور لوگوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ محفوظ بھی یا نہیں

سیلاب سے متاثرہ افراد نے مقامی میڈیا کو سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں حکومتی سست روی کی شکایت کی۔

لوگوں نے شکایت کی ہے کہ حکومت نے بحران کی سنگینی کو جلد نہیں سمجھا اور وہ اس کے بارے میں اطلاعات نشر کرنے اور مناسب تعداد میں کشتیاں فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

سری نگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سائمن ایٹکنز کے مطابق شہر کے ہوائی اڈے کی جانب جانے والا راستہ اور گلیاں زیرِ آب آ چکے ہیں جس کے باعث وہاں سے گزرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق بارش رکنے کے باوجود سری نگر کی ڈال جھیل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس علاقے میں موجود سینکڑوں ہزاروں افراد کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ابھی تک بے یار و مددگار ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے تاہم یہ بہت بڑی آفت ہے۔

عمر عبداللہ نے حکومت پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پوری توجہ زیادہ سے زیادہ افراد کو بچانے پر ہے۔

اسی بارے میں