سری نگر میں متاثرہ علاقے تاحال ناقابلِ رسائی: بھارتی فوج

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فوج نے اب تک ساڑھے 76 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں پانی اترنا شروع ہوگیا ہے تاہم فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امدادی آپریشن کے دوران ابھی تک شہر کے تمام علاقوں تک نہیں پہنچا جا سکا ہے۔

حکام کے مطابق امدادی آپریشن میں مزید 27 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے تاہم کشمیر میں اب بھی کم از کم چار لاکھ افراد امداد کے منتظر ہیں۔

بھارت کی برّی فوج اور فضائیہ کشمیر میں ایک بڑا امدادی آپریشن کر رہی ہے جس میں 79 طیاروں اور ہیلی کاپٹرز بھی شریک ہیں۔

بھارتی وزارت دفاع کے پی آر او کرنل جی ڈی گوسوامی کا کہنا ہے کہ ’بھارتی فوج نے بچاؤ اور امداد کا کام شروع کیا ہے اور پورے جموں و کشمیر میں جنگی بنیادوں پر کام چل رہا ہے۔‘

بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پورے علاقے میں فوج نے اب تک ساڑھے 76 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔‘

کرنل گوسوامی نے بتایا کہ سری نگر میں پانی میں تین سے چار فٹ کمی آئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’فوج نے امدادی آپریشن کے لیے اپنے 329 دستے مخصوص کیے ہیں جن میں سے 244 سری نگر ہی میں کام کر رہے ہیں اور 85 دستے جموں میں امدادی کام میں مصروف ہیں۔‘

تاہم سری نگر میں امدادی سرگرمیوں کے منتظم لیفٹیننٹ جنرل پنکج ونائيك نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ فوج سری نگر کے تمام علاقوں میں نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

بی بی سی ہندی کے فیصل محمد علی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بجلی اور ٹیلیفون کی لائنیں کام نہیں کر رہیں اور اس وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔

Image caption متاثرہ علاقوں سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بھی باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ سرینگر چونکہ شہری علاقہ ہے اس لیے وہاں کشتیاں چلانے میں بھی دقت پیش آ رہی ہے جبکہ شہر کے کئی حصوں میں پانی کا بہاؤ ابھی بھی تیز ہے اس لیے وہاں تک پیدل رسائی بھی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرینگر میں بارش اور سیلاب سے ہونے والی اموات کی معلومات تو مقامی انتظامیہ ہی دے سکتی ہے تاہم امدادی آپریشن کے دوران ابھی تک ایک بھی لاش نظر نہیں آئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ونائيك نے بتایا کہ فوج کی پوری توجہ اب لوگوں کو بچانے، ان کے پاس تک کھانا پانی اور ادویات پہنچانے پر ہے۔

سری نگر پورے جموں و کشمیر میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہاں اب بھی ایسے علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جو دریائے جہلم کے کنارے پر واقع ہیں۔

فوج کے امدادی آپریشن کے باوجود مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنے اہل خانہ کی مدد کے لیے فریاد کر رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جموں کے ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں ایسے افراد کی بڑی تعداد روز جمع ہوتی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ سیلاب میں پھنسے ان کے رشتہ داروں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔

ایسی ہی ایک خاتون وستي پنڈت کا کہنا تھا کہ ان کے بوڑھے ساس سسر سری نگر میں پھنسے ہیں اور ان کے پاس کوئی مدد نہیں پہنچی۔

جنوبی کشمیر کے متاثرہ علاقے اننت ناگ سے مینو پٹگارو نے کہا کہ ان کے اور پڑوس کے گھروں میں پانی گھس گیا اور اس علاقے میں تقریباً ایک ہزار لوگ کئی دن سے پھنسے ہوئے ہیں اور ان تک کوئی مدد نہیں پہنچی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر واقع علاقہ راجوری بھی سیلاب کی وجہ سے یہ علاقہ دوسرے علاقوں سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے تاہم وہاں فوج نے طبی کیمپ قائم کیا ہے۔

اس کیمپ میں موجود محمد عارف نے کہا کہ انتظامیہ تو مکمل طور پر سوئی پڑی ہے اور انھیں جو بھی مدد مل رہی ہے فوج سے مل رہی ہے۔

تاہم سری نگر کے ایئرپورٹ روڈ کے رہائشی نثار احمد کہتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو فوج پر اعتماد نہیں ہے۔

اسی بارے میں