بھارتی معیشت کے ’اچھے دن‘ بہت دور ہیں

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لوگوں کو امید ہے کہ نریندر مودی جلدی ہی ٹھوس اقدامات کریں گے

بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مکمل اکثریت والی مرکزی حکومت بننے کے بعد ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک امید کی لہر دوڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

لوگوں کو امید ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل بڑھتی مہنگائی اور قابل رحم اقتصادی حالت کو جلد ہی درست کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔

غیر ملکی سرمایہ کار، جو پچھلی مرکزی حکومت کی حکمرانی کے دوران التوا کے شکار بے شمار منصوبوں اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے مایوس بیٹھے تھے، اب خوش ہیں کہ بھارت کی صنعتی ترقی میں تیزی آئے گی۔

یقینی طور پر مرکزی حکومت میں اتنے طویل عرصے کے بعد ایک بڑی تبدیلی ہونے سے یہ جوش فطری ہے، لیکن کیا صرف وزیر اعظم اور کابینہ بدل جانے سے بھارتی معیشت کی اصل كمزورياں اتنی جلدی دور کی جا سکتی ہیں؟

عالمی بینک جیسی کئی بین الاقوامی تنظیموں نے آگاہ کیا ہے کہ ہندوستانی معیشت نازک موڑ پر کھڑی ہے اور آنے والے سالوں میں اس نئی حکومت کو انتہائی محتاط اور نازک حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیئر بازار کا انڈیکس نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے

بھارت بمقابلہ چین

ورلڈ اكنامك فورم کی حالیہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قوموں کی معیشت کو پرکھنے کے کئی پیرامیٹرز یا معیار ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں بھارت بہت پسماندہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی معیشت ہنگامی دور سے گزر رہی ہے۔ اس رپورٹ نے 144 ملکوں کی اقتصادی حالت اور مستقبل میں ان کی ترقی کی شرح کے امکانات کو کے بارے میں اندازے لگائے ہیں۔

بھارت ان ممالک میں 71 ویں مقام پر ہے، جو اسی رپورٹ کے پچھلے ورژن سے 11 نمبر نیچے چلا گیا ہے۔ یہی نہیں، گذشتہ چھ برسوں سے بھارت مسلسل ان پیرامیٹرز میں نیچے پھسلتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں کام کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن ان کا استعمال نہیں کیا جا رہا

ایشیا کے دو بڑے ملک چین اور بھارت کی اقتصادی ترقی کو اکثر ایک مقابلے کی طرح دیکھا جاتا ہے۔

2007 میں بھارت چین سے صرف 14 مقام پیچھے تھا اور اب یہ فاصلہ 43 ہو گیا ہے اور اب چین بھارت سے چار گنا زیادہ امیر ملک ہے۔ تو ایسی کون سے وجوہات ہیں جو بھارت کو مسلسل پیچھے دھکیل رہی ہیں؟

اچھی ترقی کی شرح ضروری

ورلڈ اكنامك فورم کے مطابق کسی ملک کی معیشت کو ترقی کی بہتر شرح کو برقرار رکھنے کے لیے تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

پہلا اصول ہے بنیادی سہولیات، یعنی صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات۔ ان کے ساتھ ہی ضروری ہے کہ مہنگائی، مالی خسارہ اور درآمدات اور برآمدات کے نظام کو بھی مضبوط بنایا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس وقت بھارت کی معیشت ہنگامی دور سے گزر رہی ہے

ان دونوں ہی معیارات پر بھارت کی پوزیشن قابلِ رحم ہے۔ اس کو تبدیل کرنے کے لیے سرکاری و نجی تنظیموں کی سرگرمیاں، باہمی تال میل اور نوکرشاہی نظام کا فعال ہونا ضروری ہے۔

اس بنیادی ڈھانچے کے کمزور ہونے سے کوئی بھی معیشت جلد یا بدیر ضرور لڑکھڑا جائے گی۔

بھارت کی بدنام زمانہ لال فيتہ شاہی اور سیاسی رسا کشی کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ملک کی معیشت کی بنیاد ہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

زرعی ٹیکنالوجی میں اضافہ

مثال کے طور پر ورلڈ بینک کے تجزیے کے مطابق بھارت میں کوئی منصوبہ یا کاروبار شروع کرنے کے لیے اوسطاً 12 اصول و ضوابط اور ایک مہینے کا وقت لگتا ہے۔

ورلڈ اكنامك فورم کی 144 ممالک کی درجہ بندی میں اس معیار میں بھارت تقریباً تمام ممالک سے پیچھے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زراعت پر منحصر اس ملک کی 54 فیصد عوام کو گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی اہم سہولیات دستیاب نہیں کرا پایا

ایک اور بڑی خامی یہ ہے کہ بھارت کی اتنی بڑی آبادی کے باوجود مختلف علاقوں میں اہلکاروں کی تعداد غیر مساوی ہے۔

تقریباً ہر زرعی ملک آہستہ آہستہ دیگر صنعتوں اور پیداوار کی سمت بڑھتا ہے۔ یہ عمل بڑھتی آبادی اور تکنیکی ترقی کی دین ہے۔ بھارت کا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ وہ زراعت پر منحصر اس ملک کے 54 فیصد عوام کو گذشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی اہم سہولیات دستیاب نہیں کرا پایا۔

یہی وجہ ہے کہ جی ڈی پی میں ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کا حصہ صرف 14 فیصدہے۔

دوسری طرف، کم آمدنی سے پریشان نوجوانوں کو مناسب تعلیم اور تربیت مہیا نہیں کی جا رہی اور اس وجہ سے نئی صنعتوں کو قابل انجینیئر اور میکینک وغیرہ نہیں ملتے۔

بنیادی ڈھانچے کی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت میں نئی صنعت لگانے کے لیے بہت سے مراحل سے گذرنا پڑتا ہے

بجلی، پانی، اور صنعتی توانائی جیسی بنیادی چیزیں بھارت میں ویسے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو نئے منصوبوں کو شروع کرنے میں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ بھارت کے پاس کام کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، لیکن ان کو كھپانے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے وسائل کافی نہیں ہیں۔

نتیجتاً ہنرمند افرادی قوت کے اعداد و شمار میں بھارت 144 ممالک میں 121 ویں نمبر پر ہے۔ ملک میں آمدنی میں عدم مساوات اور امیر و غریب کے درمیان مسلسل چوڑی ہوتی خلیج کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔

نریندر مودی سے امیدیں ہیں کہ وہ’اچھے دنوں‘ کو جلد ہی لے آئیں گے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر انھوں نے ریاست میں ترقی کی سمت میں بہت کام کیے، لیکن پورے ملک کی معیشت کے ڈھانچے کو تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

صرف نئی سکیمیں بنانا کافی نہیں، ان کو نافِذ کرنے کے لیے ان کی اصل مسائل پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔

سرمایہ کاروں میں جوش

مرکز میں حکومت تبدیل کرنے کے بعد سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے کچھ اشارہ دکھائی دینے لگے ہیں اور حصص بازار کا اشاریہ نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ہوگا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری، جو اس اضافہ کا ایک بڑا سبب ہے، امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی اقتصادی حالت پر منحصر ہے۔

ابھی ان ممالک کی کرنسی پالیسی نرم ہے اور سود کی شرح بھی بہت کم ہے جس وجہ سے سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کو پیسہ آسانی سے دستیاب ہے۔

جیسے جیسے عالمی معیشت اس طویل اقتصادی کساد بازاری کے دور سے ابھرےگی، ترقی یافتہ ممالک میں سود کی شرحوں میں اضافہ ہوگا اس وقت سرمایہ کار یقینا بھارت کی اصل کمزوریوں پر زیادہ توجہ دیں گے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت اپنے معاشی بحران سے نکل رہا ہے، لیکن ملک کی ترقی، صلاحیت اور استحکام کا اصل امتحان ابھی باقی ہے۔

اسی بارے میں