بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے سربراہ کی سزا میں تخفیف

Image caption جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین سعیدی کو سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے جنگ کے دوران نسل کشی، قتل اور ریپ کے جرائم کا قصور وار ٹھہرایا تھا

بنگلہ دیش کی عدالت عظمیٰ نے اسلام پسند رہنما دلاور حسین سعیدی کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش جنگی جرائم کے ایک ٹرائبیونل نے دلاور حسین کو گذشتہ سال فروری سنہ 2013 میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

ٹرائبیونل نے انھیں سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے جنگ کے دوران نسل کشی، قتل اور ریپ کے جرائم کا قصور وار ٹھہرایا تھا۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ دلاور حسین کی سزائے موت پر گذشتہ سال بڑے پیمانے پر پرتشدد واقعات پھوٹ پڑے تھے جن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اٹارنی جنرل محبوبی عالم نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ ’سعیدی اپنی باقی ماندہ زندگی جیل میں ہی گزاریں گے۔‘

اس فیصلے سے قبل ملک میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور ہزاروں پولیس اہلکاروں، سکیورٹی فورسز اور نیم فوجی سرحدی دستوں کے جوانوں کو ملک کے اہم شہروں میں تعینات کیا گیا ہے۔

دلاور حسین کو جون سنہ 2010 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں جنوبی بنگلہ دیش کے پیروجپور (فیروز پور) میں دو افراد کے قتل کا مرتکب پایا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کے اخبار دا ڈیلی سٹار کے مطابق انھیں تین خواتین کے اغوا اور ریپ میں پاکستانی فوجیوں کی امداد، لوگوں کو ایذائیں دینے، لوٹ مار کرنے، ہندوؤں کے مکانات کو نذرآتش کرنے، ہندو برادری کے افراد کو زبردستی مسلمان بنانے اور انھیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کا قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ دلاور حسین سعیدی اور دیگر رہنماؤں پر سیاسی بنیادوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

جب جماعت اسلامی کے رہنما سعیدی فعال اور متحرک تھے تو انھیں ملک کے بہترین مقرروں میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کی مجالس میں لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے تھے۔

اسی بارے میں