دولت اسلامیہ اور ’خراسان‘ کا استعارہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ۔۔۔دولتِ اسلامیہ نے اپنے نقشے میں مجوزہ خراسان کا علاقہ بھی شامل کر رکھا ہے

عراق اور شام میں اسلامی خلافت کا اعلان کرنے والی شدت پسند دولت اسلامیہ جس طرح آج کل امریکہ اور یورپی ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے، وہاں اس تنظیم کے نظریے پر یقین رکھنے والے کئی عسکری گروہ پاکستان اور افغانستان میں بھی سرگرم عمل ہیں۔

بنیادی طور پر دولت اسلامیہ میں شامل بیشتر جنگجوؤں کا تعلق عراق اور شام سے بتایا جاتا ہے لیکن تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوان بھی اس تحریک میں ان کے ساتھ شامل ہیں۔

تاہم دولت اسلامیہ نے پاکستان، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک میں حمایت حاصل کرنے کے لیے خراسان کا علاقہ بھی اپنی مجوزہ اسلامی ریاست کے نقشے میں شامل کیا ہے جس سے ان کے لیے اس خطے میں حمایت بڑھنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

شدت پسند تنظیموں پر تحقیق کرنے والے تجزیہ نگار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک میں سرگرم کئی شدت پسند تنظیمیں ’خراسان’ کا استعارہ استعمال کرتی ہیں اور وہ خود کو قدیم خراسان کی ریاست سے جوڑتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کئی صدی پہلے خراسان ایک مضبوط اسلامی سلطنت گزری ہے جس کی سرحدیں موجودہ پاکستان، افغانستان، بھارت، ایران، وسط ایشیا اور مشرق وسط کے ممالک تک پھیلی ہوئی تھیں۔

ان کے مطابق ریاست خراسان پر عقیدہ رکھنے والے تنظیموں کا خیال ہے کہ امام مہدی کا ظہور اسی خطے سے ہوگا لیکن اس سے پہلے ’کالی پگڑی والوں اور کالے جھنڈوں والوں‘ نے ان کےلیے کافی حد تک راہ ہموار کی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ اس تصور پر یقین رکھنے والوں کا خیال ہے کہ خراسان کے خطے میں امام مہدی خلافت کا اعلان کریں گے اور پھر رفتہ رفتہ اس کا دائرہ پوری دنیا تک پھیلے گا اور ہر طرف اسلام کا غلبہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے سید احمد شہید اور مولانا ضیاء الرحمان لکھوی کا تصور خلافت بھی پایا جاتا ہے لیکن شاید ان نظریات کو زیادہ تقویت نہیں ملی۔

ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک میں کئی ایسے شدت پسند تنظیمیں اور کمانڈرز موجود ہیں جو بظاہر لگ رہا ہے کہ رفتہ رفتہ خلافت اسلامیہ کی طرف مائل ہورہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان میں دولت اسلامیہ کے ساتھ نظریاتی لگاؤ رکھنے والے چند عسکری تنظیمیں اور کمانڈرز موجود ہیں جن کی طرف سے وقتاً فوقتاً داعش کی حمایت میں بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

پاکستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے حال ہی میں جدا ہونے والی تنظیم جماعت الاحرار کے بارے میں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ تنظیم خراسان کے نظریے پر یقین رکھتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ دولت اسلامیہ کے ساتھ الحاق بھی کر دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس وقت یہ بات قبل از وقت ہوگی کہ اس علاقے سے کون اس تنظیم کے ساتھ شامل ہو رہا ہے اور کون نہیں: احسان اللہ احسان

یہ امر بھی اہم ہے کہ جماعت االاحرار کے سربراہ اور بیشتر کمانڈرز اپنے ناموں کے ساتھ خراسان کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ تاہم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ ان کی تنظیم خراسان کے نظریے پر یقین ضرور رکھتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ دولت اسلامیہ میں شامل ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ خراسان میں خلافت کے قیام کو پیغمبر اسلام کے احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں جس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ اسی خطے سے کالی جھنڈوں والے اٹھیں گے جن کے لشکر میں امام مہدی بھی شامل ہوں گے اور جو پوری دنیا میں خلافت قائم کریں گے۔

ان کے مطابق ’دولت اسلامیہ ایک جہادی قوت ضرور ہے اور ہم ہر مجاہد کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں لیکن اس وقت یہ بات قبل از وقت ہوگی کہ اس علاقے سے کون اس تنظیم کے ساتھ شامل ہو رہا ہے اور کون نہیں۔‘

احسان اللہ احسان سے جب سوال کیا گیا کہ ان کی تنظیم کے ساتھ دولت اسلامیہ کی طرف سے کوئی رابط تو نہیں ہوا ہے تو اس پر انھوں نے کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کیا ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولت اسلامیہ نے عراق اور شام کے زیر قبضہ علاقوں میں خلافت قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کی طرف سے بھی چند دن پہلے جنوبی ایشیاء کے لیے نئی شاخ کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا جسے اکثر تجزیہ نگار اس خطے کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کی طرف سے طرف جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا گیا تھا کہ برصغیر شاخ بنانے کا مقصد ان مسلمان جنوبی ایشیائی ممالک کی سرحدوں کو توڑنا ہے جو برطانیہ نے بنائیں تھی۔

ویڈیو کے آخر میں الظواہری کی طرف سے ایک حدیث کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں’ غزوۂ ہند’ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں سرگرم جہادی تنظیمیں اور شدت پسند کمانڈرز اکثر اوقات اپنے تقریروں میں اس حدیث کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں اس خطے میں جنگ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

اسی بارے میں