بھارت چشم براہ، مگر محتاط

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کی سفارت کاری کی تاریخ میں یہ مہینہ اب تک خاصا دلچسپ رہا ہے اور لگتا ہے کہ باقی دن بھی ایسے ہی ہوں گے۔

مہینے کے شروع میں جاپان کے ایک کامیاب دورے کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی بدھ کو چینی صدر شی جی پنگ کو بھارت میں خوش آمدید کہہ چکے ہیں۔ چینی صدر کے دورے کے بعد ستمبر کے آخری دنوں میں نریندر مودی امریکہ جا رہے ہیں اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چینی صدر کے دورۂ بھارت اور پھر بھارتی وزیرِ اعظم کے دورۂ امریکہ سے بھارتی سفارت کاری کو ایک نئی طاقت ملے گی۔

ماضی قریب میں بھارت اور چین کے تعلقات میں آنے والے اتار چڑہاؤ کو مدنظر رکھیں تو چینی صدر کے حالیہ دورے کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔

گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے مسٹر مودی پانچ مرتبہ چین جا چکے ہیں اور ہر مرتبہ صاف دکھائی دیتا تھا کہ وہ چین کی معاشی ترقی سے بہت متاثر ہو کر لوٹے تھے۔

عام انتخابات میں نریندر مودی کی زبردست کامیابی کو بیجنگ میں بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے حوالے سے ایک اچھی نوید سمجھا گیا تھا اور اس وقت سے کچھ لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ نریندر مودی بھارت کے ’نکسن‘ ثابت ہوں گے جو چین اور بھارت کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں سے متعارف کرائیں گے۔

ذاتی علیک سلیک

اگرچہ انتخابات کے بعد کے ابتدائی دنوں کے اس جوش و خروش کی جگہ اب حقیقت پسندی نے لے لی ہے، تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیجنگ اب بھی نریندر مودی کو ایک ایسے مضبوط بھارتی رہنما کی نظر سے دیکھتا ہے جو سفارتی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے بھارت کی طرف ہاتھ بڑھانے میں جلدی کی تا کہ بھارت امریکہ کی جانب نہ جھُکے اور نہ ہی خطے میں امریکہ کی نئی چین مخالف حکمت عملی کا حصہ بنے۔

دریائے سابرمتی کے کنارے نہایت پرتکلف عشائیے سے پہلے مسٹر مودی اور مسٹر جی پنگ برازیل میں ’برکِس‘ ممالک کے اجلاس کے موقع پر مِل چکے ہیں جہاں دونوں کو ایک دوسرے کو جاننے کا اچھا موقع ملا تھا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ حالیہ دورے میں دونوں رہنما اس ذاتی دوستی سے مستفید ہوں گے۔

مسٹر مودی کی طرح مسٹر شی بھی بہت زیادہ قوم پرست ہیں اور وہ بھی قومی سلامتی کے حوالے سے بہت سخت مؤقف رکھتے ہیں، لیکن وہ بھی معاشی معاملات میں تعاون کے زبردست خواہاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہمالیہ کے علاقے میں بھارت اور چین کے درمیان 1962 میں مختصر جنگ بھی ہو چکی ہے

اپنے پیش رو، من موہن سنگھ کے برعکس، مسٹر مودی کے پاس سفارتکاری کی زمین خاصی وسیع ہے۔ مسٹر مودی کو من موہن سنگھ کی طرح اس مسئلے کا سامنا نہیں کہ ان کے پاس سیاسی طاقت کم ہے یا ان کی جماعت بین الاقوامی تعلقات میں بے تکے پن کا شکار ہے۔ کانگریس پارٹی اس خوف سے کہ کہیں چین ناراض نہ ہو جائے، بالکل ہی اپاہج ہو چکی تھی اور اپنی اسی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے اس نے جاپان اور امریکہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات خاصے خراب کر لیے تھے۔ لیکن مسٹر مودی نے وزیرِ اعظم کا دفتر سنبھالتے ہی اس سلسلے میں نہایت پُر اعتمادی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

یہ اسی خود اعتمادی کا نتیجہ ہی ہے کہ مسٹر مودی نے نہ صرف چین کی’توسیع پسندی‘ پر کھل کر بات کی ہے بلکہ انھوں نے چین کی فوجی ترقی سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے بھارت کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مسٹر مودی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت میں چین کی سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہیں۔

اپنے ابتدائی چند ماہ میں مسٹر مودی نے جس سبک رفتار سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے اس سے چین کو پتہ لگ چکا ہے کہ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں بھارت کے پاس چین کے علاوہ دوسرے معاشی دوست بھی موجود ہیں۔ مسٹر مودی چین کے ساتھ مذاکرات میں اپنی اسی طاقت کو بروئے کار لائیں گے۔

مسٹر شی کے ہمراہ ایک سو سے زائد چینی کاروباری شخصیات بھی بھارت پہنچی ہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چینی وزیر اعظم کے دورے کا مرکزی نکتہ تجارت ہی ہے۔

توقع ہے کہ اس دورے کے دوران چین بھارت میں سرمایہ کاری کے کئی منصوبوں کا اعلان کرے گا۔

دورے سے توقعات

اب تک بھارت چین کی جانب سے کئی معاشی شعبوں میں سرمایہ کاری کے خیال کے خلاف رہا ہے جس کی وجہ سے بھارت میں چین کی براہ راست سرمایہ کاری میں کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، لیکن اب بھارت میں کئی نئے صنعتی پارکوں کا افتتاح کرنے کے بعد چینی تاجر براہ راست سرمایہ کاری کی جانب راغب ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلی اور بیجنگ میں دو اتنے زیادہ طاقتور رہنماؤں کی موجودگی سے توقعات وابسطہ ہیں

چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے اور یہ تجارت اتنی زیادہ ہے کہ اس سے بھارت کو 40 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ مسٹر مودی کی نظروں سے قطعاً اوجھل نہیں ہے اور اس خسارے کو کم کرنے کے لیے وہ ہرقدم اٹھانے کو تیار نظر آتے ہیں۔ لیکن معاشی ترقی پر نظریں جمانے کا مطلب یہ نہیں کہ مسٹر مودی کی حکومت بھارت کی علاقائی حیثیت اور حکمت عملی سے نظریں چرا سکتی ہے۔

حاصل بحث یہ ہے کہ بھارت کو چین کے ساتھ تعاون بڑھانے میں کئی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دونوں ملکوں کے لیے دلی اور بیجنگ میں دو اتنے زیادہ طاقتور رہنماؤں کی موجودگی سے زیادہ اچھا موقع شاید دوبارہ کم ہی آئے گا۔

مسٹر مودی اور مسٹر شی دونوں ہی اس حقیقت سے مکمل باخبر دکھائی دیتے ہیں۔

اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس ہفتے دونوں رہنما خاردار جھاڑی کو بغیر ہاتھ زخمی کیے کیسے قابو کرتے ہیں۔

اسی بارے میں