’کھانا گھر کا کم، باہر کا زیادہ کھاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس میں چینی سیاح مشہور یادگار ’فتح کی محراب‘ کے سامنے تصاویر کھنچوا رہے ہیں

چینی صدر شی جن پنگ نے بیرونِ ملک جانے والے چینی سیاحوں کو ملک کی شہرت بہتر کرنے اور اپنا رویے میں بہتری لانے کے لیے کئی مشورے دیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تعطیلات پر بیرونِ ملک جانے والے سیاحوں کو اپنے ساتھ فوری تیار ہونے والی نوڈلز نہیں لے کر جانی چاہییں۔

چین کی نیوز سروس ایجنسی کے مطابق مالدیپ کے حالیہ دورے پر چینی باشندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے شی نے کہا: ’معدنی پانی کی بوتلیں مت پھینکیں، سمندری حیات کو نقصان مت پہنچائیں، فوری تیار ہونے والی نوڈلز کم کھائیں اور سمندر سے حاصل کی جانے والی خوراک زیادہ استعمال کریں۔‘

شی کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب تقریباً چار لاکھ چینی سیاح اس سال مالدیپ کا دورہ کریں گے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیرونی ممالک جا کر وطن سے لائی ہوئی خوراک کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں اور مقامی کھانا نہیں کھاتے۔

لیکن اس سال توقع کی جا رہی ہے کہ تقریباً دس کروڑ چینی سیاح بیرون ممالک کا سفر کریں گے، اور اسی لیے چینی صدر چاہتے ہیں کہ چینی لوگ بیرونی ممالک کے دوروں پر اپنے ملک کے سفیر بن کر جائیں۔

گذشتہ سال چینی نائب وزیر اعظم وانگ یانگ نے بیرون ممالک جانے والے کچھ چینی سیاحوں کے ’غیر مہذب رویے‘ پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ یہ لوگ بیرونی ممالک میں چین کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد چین کے قومی سیاحت کے ادارے نے سیاحت پر مبنی ایک خصوصی رہنما کتابچہ شائع کیا جس میں ایک جامع فہرست موجود ہے جو بتاتی ہے کہ سیاحوں کو کس قسم کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

چین کا ایک اخبار ’چائنا ڈیلی‘ لکھتا ہے کہ زور زور سے حلق صاف کرنے، قطار توڑنے، طیاروں اور ٹرینوں میں جوتے اتارنے، اور دوزانو بیٹھ کر سگریٹ پینے کی عادتوں سے سیاحوں کے بارے میں غلط تاثر قائم ہوتا ہے۔

اسی بارے میں