چین بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

چینی صدر شی جی پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption چین اور بھارت کے درمیان 12 معاہدوں پر دستخط ہوئے

بھارت اور چین نے آج نئی دہلی میں 12 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن میں سے ایک معاہدے کے تحت چین اگلے پانچ سالوں میں بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

چینی صدر شی جی پنگ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ترقی کے لیے سرحد پر امن بہت اہم ہے۔

چین بھارت کا اہم اقتصادی شراکت دار ہے لیکن دونوں ملک خطے میں اثر و رسوخ اور سرحد پر تنازعے میں الجھے رہتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے منصوبے میں چین بھارت کے پرانے ریلوے نظام کو تیز رفتار ٹرین سسٹم کے ساتھ جدید اور بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔ اس کے علاوہ چین بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔

بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں نریندر مودی نے چینی صدر کے ساتھ سرحد کے معاملات پر بھی بات کی۔

بھارتی میڈیا میں اس طرح کی خبریں گردِش کر رہی ہیں کہ چینی فوجی دستے لداخ کے متنازع علاقے میں لائن آف کنٹرول کے اس پار بھارتی علاقے میں ایک عارضی سڑک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع بہت پرانا ہے جب 1941 میں بھارت پر اپنی حکمرانی کے دوران برطانیہ نے تبت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت میک موہن لائن دونوں ملکوں کے درمیان عملی طور پر سرحد قرار دی گئی تھی، لیکن چین اسے تسلیم نہیں کرتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی صدر نے اپنے دورے کا آغاز نریندر مودی کی ریاست گجرات سے کیا تھا

چینی صدر شی جی پنگ نے اپنےدورے کا آغاز نریند مودی کی ریاست گجرات سے کیا تھا اس کے بعد وہ دہلی آئے تھے۔

بدھ کے روز دونوں فریق نے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے تھے جن میں سے ایک معاہدے کے تحت چین گجرات میں ایک صنعتی پارک تعمیر کرے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہماری ترجیح میں شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ممالک کی ترقی کی منصوبوں کو اہم سمجھتے ہیں اور ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

نریندر مودی نے کہا ہے کہ انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے درخواست کی ہے کہ وہ بھارتی کمپنیوں کے چین میں کاروبار کرنے کو مزید آسان بنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو اپنے سرحدی تنازعے کو جلد سے جلد حل کرنا چاہیے

انھوں نے کہا کہ انھوں نے چینی کمپنیوں کو بھارت میں بنیادی ڈھانچے اور صنعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مدعو کیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے سرحدی تنازعے کو جلد سے جلد حل کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ سرحد پر امن کے لیے لائن آف ایكچول کنٹرول کے تعین کا کام کئی سالوں سے رکا ہوا ہے، اسے جلد سے جلد دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقعے پر چینی صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک بھارت میں چینی زبان کے ڈیڑھ ہزار اساتذہ کو تربیت کرے گا اور پانچ سو چینی اساتذہ کو بھارت بھیجے گا.

اسی بارے میں