کشمیر: مقامی رضا کار متاثرین کے لیے امید کی کرن بنے

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سیلاب میں پھنسے لوگوں کے لیے مقامی رضاکار امید کی ایک کِرن بن کر اُبھرے

کشمیر میں 25 سال کے صحافت کے اپنے دور میں میں نے اتنی تباہی اور بیچارگی نہیں دیکھی جتنی کشمیر میں آنے والے اس سیلاب کے دوران دیکھی ہے۔

ہزاروں لاکھوں افراد سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے تھے اور ابھی تک سیلاب سے ہلاکتوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

اس سانحے کے دوران دور دور تک کوئی افسران یا اہلکار نہیں دکھائی دیے جس میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے اصول پر تکیہ کیا۔

سات ستمبر کو وزیراعظم نریندر مودی کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے جموں کشمیر کا دورہ کیا لیکن وہ سر ینگر نہیں گئے۔

سیلاب سے جب سرینگر ایک جھیل میں تبدیل ہوگیا تو بھارتی فوج اور فضائیہ حکومت کا چہرہ بن کر سامنے آئے لیکن وہ بھی اس خراب صورتِ حال کو سنبھالنے نہیں پائے اور ان پر بھی مخصوس لوگوں کو بچانے کا الزام لگایا گیا۔

ان حالات میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کے لیے مقامی رضاکار امید کی ایک کِرن بن کر اُبھرے۔

8 ستمبر کو جب میں اپنے رشتے داروں کو بچانے گیا تو دیکھا وہ لوگ جو سیلاب سے متاثر نہیں تھے وہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے متاثرہ علاقوں کی جانب جا رہے تھے۔

ایک دوست کی مدد سے میں نے اپنے رشتے داروں کو نکالا اور ان رضا کاروں کے جذبے سے متاثر ہو کر میں نے بھی لوگوں کو بچانے کا مشن بنا لیا۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میں نے دیکھا کہ جو لوگ ان متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور پھنسے ہوئے ہزاروں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔

تازہ سبزیوں، پھلوں، آٹے اور چاول سے لدھے ہوئے ٹرک لوگوں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔

خواہ یہ کام منظم طریقے سے نہیں ہو رہا لیکن یہ رضا کار پانی میں ڈوبے ہوئے اس شہر میں جو بھی اور جتنا بھی کام کر رہے ہیں وہ قابلِ ستائش ہے۔

لوگوں تک پہنچنے کے لیے ان رضا کاروں کے پاس کشتیاں نہیں ہیں لیکن انہوں نے پلاسٹک کے بڑے بڑے ڈبوں، ٹرکوں کے ٹائروں اور لکڑیوں کو جوڑ کر کشتیاں بنا لی ہیں مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ خود جن لوگوں کے گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ بھی دوسروں کی مدد کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

Image caption سیلاب سے سرینگر ایک جھیل میں تبدیل ہوگیا

پیشے سے وکیل سجاد شیخ کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ دِنوں میں وہ ہر رات بمشکل چار گھنٹے ہی سو سکے ہیں۔

سجاد نے ساڑھے تین لاکھ روپے کا قرضہ لیا ہے اور دلی جا کر وہ ایک کشتی لےکر آئے اور اب وہ دن رات سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے میں مصروف ہیں۔

سجاد کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قرضہ لوگوں کو بچانے کے لیے لیا ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ہی لوگوں کو بچانے کے لیے کس کے سامنے بھیک مانگتے۔

گزشتہ کچھ روز میں سجاد جیسے بہت لوگوں کی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں جنہوں نے ایسی خدمات انجام دی ہیں۔ذکات فاؤنڈیشن جیسی غیر سرکاری تنظیمیں بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

اس کے علاوہ نیشنل ڈزاسٹر ریسپونس فورس بھی امدای کاموں میں ہاتھ بٹا رہی ہے۔

میری ملاقات ایک سینیئر سرکاری اہلکار محمد علی لون سے ہوئی جو گہرے پانی میں پھنسی ہوئی کشتی کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب اللہ کے لیے کر رہے ہیں۔

رضاکار لوگوں کو پانی سے نکالنے اور امداد کی تقسیم کا کام بخوبی نبھا رہے ہیں۔

لوگوں میں مفت کھانا اور کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔ مسجِد میں باورچی خانے بنا لیےگئے ہیں جہاں بڑی مقدار میں کھانے پکا کر تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

کئی رضاکار ٹریفِک وارڈن کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ تاکہ تنگ گلیوں سے کاروں اور ٹریفک کو نکالا جا سکے۔

پچھلے چند دِنوں میں موسم بہتر ہونے کے بعد سے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی امداد لےکر سرینگر آنے لگے اور اب حالات میں بہتری نظر آنے لگی۔

ہرصبح جب میں گھر سے باہر نکلتا ہوں مجھے ایک نیا طبی کیمپ لگا دکھائی دیاتا ہے۔ شہر کے تین بڑے ہسپتال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اس لیے بہت سے ڈاکٹر اور نرسیں ان کیمپوں میں لوگوں کا علاج کرنے آجاتے ہیں۔

اسی طرح کے ایک کیمپ میں کام کرنے والے ڈاکٹر یاسر وانی کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا اور اب ہمیں ہنگامی طبی امداد کی ضرورت ہے۔

یہ سیلاب کشمیر کے لیے حالیہ برسوں کا اب تک کا سب سے بڑا چیلنج تھا اور کشمیریوں کا ایک دوسرے کے لیے اس طرح کے جذبات کے اظہار سے امید کی ایک کرن دکھائی دیتی ہے کہ ہم مشکل حالات پر قابو پا لیں گے۔

اسی بارے میں