افغان صدارتی انتخابات، نتائج کا اعلان اتوار کو

Image caption عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی شراکتِ اقتدار کے ایک معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے

افغانستان کے الیکشن کمیشن کے ترجمان نور محمد نور نے کہا ہے کے ایک ہفتے تک جعلی ووٹوں کی گنتی کرنے کے بعد ملک کے صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان اتوار کو کر دیا جائے گا۔

اس اعلان سے افغانستان کا پانچ ماہ سے زیادہ طویل انتخابی عمل اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

صدارتی انتخابات میں ووٹنگ اپریل میں ہوئی تھی جس میں کوئی امیدوار کل ووٹوں کا پچاس فیصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

جس کے بعد افغانستان کے آئین کے تحت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان دوسرے مرحلے میں انتخابی معرکہ ہوا۔

دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے اس بحران کو حل کرنے کے لیے شراکتِ اقتدار کے ایک معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی جس کے تحت چیف ایگزیکیٹو کا ایک نیا عہدہ بھی قائم کیا جانا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی مسلسل ثالتی کے باوجود یہ مذاکرات کئی ہفتوں تک چلتے رہے اور بے نتیجہ رہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان ہفتے کو بھی مذاکرات ہوئے۔ دونوں طرف کے معاونین کا کہنا ہے کہ ان کے درمیان معاہدہ طے پانے والا ہے۔ لیکن ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگر معاہدے سے پہلے نتائج کا اعلان کیا گیا تو وہ معاہدے توڑ دیں گے۔

صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو برتری حاصل تھی جبکہ دوسرے مرحلے میں اشرف غنی نے سبقت حاصل کر لی تھی۔

دوسرے مرحلے کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے سامنے آنے کے بعد عبداللہ عبداللہ کے حامیوں نے کابل میں مظاہرے شروع کر دیے تھے۔

یہ دونوں امیدوار، عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی احمد زئی اپنے درمیان صدر اور چیف ایگزیکٹو آفسر کے عہدوں کو ایک دوسرے میں تقسیم کرنے کے معاہدے پر مذاکرات کر رہے تھے۔

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے درمیان تعطل افغانستان میں سیاسی بحران کا سبب ایک ایسے وقت بنا ہے جب طالبان کے خلاف تیرہ سال کی جنگ لڑنے کے بعد امریکی قیادت کی نیٹو افواج ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اس خدشے کے پیش نظر کہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی بحران کہیں سنہ 1990 کی طرح ایک مرتبہ پھر ملک کو نسلی تقسیم اور خانہ جنگی کی طرف نہ دھکلیل دے اقوام متحدہ اور امریکہ نے قومی حکومت کی تشکیل کی تجویز پیش کی۔

اگر دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سڑکوں پر آ جاتے ہیں تو افغانستان میں شدید بدامنی پھیلنے کا خطرہ ہے کیونکہ عبداللہ کی حمایت تاجک اور دیگر شمالی نسلی گروہ کرتے ہیں جبکہ اشرف غنی افغانستان کے جنوبی اور مشرقی پشتون قبائل میں بہت مقبول ہیں۔

اسی بارے میں