سرحد پر کشیدگی کے ساتھ رشتے اچھے کیسے ہوں گے

نریندع مودی اور چینی صدر شی جی پنگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کا کوئی حل ہے

چین کے صدر شی جی پنگ کے بھارت کے دورے کے دوران بھی چینی فوجی بھارت کی سرحد پر متنازع علاقے لداخ کی سرحد میں گھس آئے ہیں جو چین کے صدر شی جی پنگ سفر کے آخر ی مراحل میں تلخی پیدا کر دی تھی۔

ایک طرف تو بھارت اور چین باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف سرحد پر فوج آمنے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے کا کوئی حل ہے؟ سرحد پر امن قائم کرنے کے لیے دونوں ممالک کو کیا کوشش کرنی چاہئے۔

اس پورے معاملے کو چار نقطہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔

کچھ اسٹریٹجک ماہرین کی رائے میں یہ دراندازی چین کے صدر شی جی پنگ کی خود کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ بھی سو سکتی ہے، تاکہ وہ بھارت کو اس کی حیثیت بتا سکیں اور یہ یاد دلا سکیں کہ بھارت اور چین کا سرحدی تنازع برقرار ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شی خود ہی اس سِمت میں پیش رفت کی کوشش کر رہے ہوں اور پیپلز لبریشن آرمی اس بات سے ناراض ہو تب چمار میں دراندازی، سیاستدانوں پر کنٹرول کرنے کا پیپلز لیربیش آرمی کی ہائی کمان کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

چین کی مشکل

مسئلہ یہ بھی ہے کہ چین اب بھارت کو ان حالت میں نہیں چھوڑ سکتا، جہاں سے وہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ مل کر ایک چین مخالف گروپ میں شامل ہو جائے۔

شی جی پنگ اور پیپلز لبریشن آرمی کے ان جرنیلوں کو یہ معلوم ہے کہ سرحد پر بار بار تنازع سے بھارت چین کے مخالفین سے ہاتھ ملا لے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین نہیں چاہتا کہ بھارت امریکہ اور جاپان کے ساتھ مل کر چین مخالف گروپ میں شامِل ہو جائے

تیسرا امکان اس بات کا ہے، جس کی جانب میڈیا سے بات چیت کے دوران خود شی جیپنگ نے اشارہ دیا تھا۔ انھوں نے کہا، ’سرحد تعین نہ ہونے سے ایسے واقعات ہوتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے پاس اس صوتِ حال کو سنبھالنے کا نظام موجود ہے‘۔

شی جی پنگ جس سمت اشارہ کر رہے تھے، اس کا ذکر بھارتی حکام بھی کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ چین سرحد کے تعین کے لیے پہل کیوں نہیں کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا ہے، ’حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سي) کے تعین سے امن قائم کرنے کی ہماری کوششوں کو بڑی مدد ملے گی‘۔

سرحد پر کشیدگی

چین کے صدر نے ایل اے سي کے تعین کے عمل کو شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ایل اے سي ہے کہاں ، اس پر بھی دونوں میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے ایسے میں جب کسی ملک کی فوج اپنی ایل اے سي کے مطابق سرحد پرگشت کرتی ہے تو دوسرے ملک کو یہ دراندازی لگتی ہے۔

1996 میں، دونوں ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں دونوں ممالک نے فوجی علاقے میں اعتماد بحال کرنے کے لیے ایل اے سي کے تعین کے عمل کو تیز کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس معاہدے میں کہا گیا تھا، بھارت اور چین کو ایل اے سي کے تعین کے پہلے مرحلے میں ان حصوں پر کام کرنا ہے، جس میں دونوں کی مختلف رائے ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو اپنا اپنا نقشہ دینے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

لیکن ایسا ہوا نہیں 2003 میں بات چیت کرنے اور فیصلہ لینے کی ذمہ داری خصوصی نمائندوں کے حوالے کی گئی 11 سال اور 17 راؤنڈ کی بات چیت کے بات بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا۔

اب ایک بار پھر بھارت اور چین اس بات پر متفق ہیں کہ ایل اے سي کا تعین بغیر کسی تعصب کے ہونا چاہئے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ چین کو اس بات کا خدشہ ہے کہ نقشے کے تبادلے سے بات چیت میں اس کا موقف کمزور ہوگا۔

سرحد کا تعین کب ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین سرحد کے تعین کے لیے پہل کیوں نہیں کرتا

سرحد کے تعین پر دونوں متفق ہیں لیکن اس کو عمل میں لانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

اسی پہلو سے چینی فوجیوں کی دراندازی کو سمجھنے کے لیے چوتھا نظریہ سامنے آتا ہے مقامی سطح پرایل اے سي کا تعین نہ ہونے سے بغیر کسی فائدے کی سوچ کے ساتھ چین سرحدی علاقوں پر اپنا حق جتانا چاہتا ہے۔

چین کے مقاصد کے حوالے سے بھارت فکر مند نہ بھی ہوں تو بھی ایک بات تو صاف ہے کہ، ہندوستانی فوج ان دراندازوں کو جواب جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ حالانکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھے گی اور رشتوں میں غیر یقینی کا ماحول پیدا ہوگا۔

میڈیا کو اپنے بیان میں مودی نے کہا، ’ ہم نے چینی صدر کے ساتھ سرحد پر بار بار ہونے والی دراندازی کے مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھایا ہم اس بات پر متفق تھے کہ دونوں ممالک کے باہمی رشتوں کو بہتر کرنے کے لیے سرحد پر امن ضروری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر شی پنگ کا یہ دورہ بھارت کے لیے کئی معنوں میں اہم تھا

وزیراعظم مودی کے الفاظ مؤثر طریقے سے چین کو یہ پیغام نہیں دے پائے کہ دراندازی کے واقعات سے دو طرفہ تعلقات ختم ہو سکتے ہیں، اگرچہ مودی کے پیغام نے یہ ضرور صاف کر دیا ہے کہ سرحد پر کشیدگی کا دونوں ممالک کے باہمی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔

مضبوط قیادت

اگر سرحدی تنازعہ کو چھوڑ دیں تو شی جی پنگ کا بھارت کا دورہ کئی اعتبار سے خاص تھا۔ چین نے بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان اگرچہ یہ جاپان کے 35 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے وعدے سے کم ہے۔

اس کے علاوہ سمندری سلک روٹ پر بھی اتفاق ہوا۔ شی جی پنگ نے بھارت اور چین کے باہمی تعاون میں اضافے کی بات کی ہے تاکہ ایشیائی پیسفک خطے میں دونوں ملک پارٹنر کی طرح کام کر سکیں۔

گزشتہ تیس سال میں چین کے سب سے مضبوط لیڈر کے طور پر ابھرنے والےشی جی پنگ اور بھارت کے سب سے مضبوط لیڈر کے طور پر سامنے آنے والے نریندر مودی اب ان دونوں کے پاس دونوں ممالک کے باہمی تعلق کو بہتر بنانے کے لیے پانچ سال کا وقت ہے۔

اسی بارے میں