امریکہ اور پاکستان افغانستان میں امن نہیں چاہتے: کرزئی

حامد کرزئی نے پاکستان پر بھی کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے
،تصویر کا کیپشن

حامد کرزئی نے پاکستان پر بھی کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنے آخری خطاب میں امریکہ پر کڑی تنقید کی ہے۔

صدارتی محل میں اپنی آخری تقریر میں حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ’امن عمل اس لیے ناکام ہوا کیونکہ امریکہ امن نہیں چاہتا اور اس کے اپنے مقاصد ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ جنگ افغانوں کے درمیان نہیں تھی بلکہ ’غیر ملکیوں کے مقاصد کے لیے تھی۔‘

افغان صدر نے ہمسایہ ملک پاکستان پر بھی کڑی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’آج میں آپ کو دوبارہ بتا رہا ہوں کہ افغانستان کی جنگ ہماری جنگ نہیں ہے، یہ ہم پر مسلط کی گئی ہے اور ہم اس کے متاثرین ہیں۔ امن تب تک نہیں آئے گا جب تک امریکہ اور پاکستان ایسا نہیں چاہیں گے۔‘

پیر کو افغانستان میں نئی قومی اتحاد کی حکومت قائم ہوئی اور حامد کرزئی نے اپنے جانشین کو واشنگٹن کے ساتھ معاملات میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی امریکی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔

اپنی الوداعی تقریر میں انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں دوستانہ تعلقات ہو سکتے تھے اگر ان (امریکہ) کے قول اور فعل میں ہم آہنگی ہوتی۔

،تصویر کا کیپشن

حامد کرزئی دو بار مسلسل ملک کے صدر منتخب ہوئے

ماضی میں حامد کرزئی افغانستان میں تعینات اتحادی افواج نیٹو پر بھی تنقید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی افغانستان میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے موجودگی کے باوجود ملک مستحکم نہیں ہو سکا۔

افغان صدر کے بقول: ’سکیورٹی کے معاملے پر نیٹو کی کارروائیوں سے افغانستان کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا اور حاصل کچھ نہیں ہوا کیونکہ ملک ابھی تک محفوظ نہیں ہے۔‘

امریکہ ایک سکیورٹی معاہدے کے تحت 2014 میں افغانستان میں امریکی افواج کی اکثریت کے انخلا کے بعد بھی دس ہزار فوجی افغانستان میں رکھنا چاہتا ہے۔

حامد کرزئی نے گذشتہ برس بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’امریکہ سے تعلقات 2005 میں اس وقت خراب ہونا شروع ہوئے تھے جب پہلی بار عام شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا، اور اس وقت ہم نے دیکھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جہاں ہونی چاہی تھی وہاں نہیں ہو رہی۔‘