کشمیر بحران: حکومت غائب، نوجوانوں نے کمان سنبھالی

نئی دلّی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم بسما علی نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ جس امدادی تحریک کا آغاز دس ستمبر کو کیا تھا، اس کے تحت اب تک پانچ کروڑ روپے مالیت کا امدادی سامان تقسیم کیا گیا ہے۔

دلّی میں زیرتعلیم ان چار طالب علموں کا دائرہ اب ایک ہزار رضاکاروں کا وسیع نیٹ ورک بن گیا ہے جو فی الوقت کشمیر میں سیلاب زدہ آبادی کی مدد کر رہا ہے۔ اس تحریک کا نام ’کشمیری والنٹئیرز فرام دہلی فار فلڈ ریلیف‘ یا ’دلّی سے کشمیری رضاکاروں کی امداد برائے سیلاب زد گان‘ رکھا گیا ہے۔ مختصراً اس گروپ کو ’کے وی ڈی آر ایف‘ کہتے ہیں۔

بسما علی کہتی ہیں: ’میں نے تین دن تک دلّی سے گھر رابطہ کرنا چاہا مگر یہ ممکن نہ ہوا۔حکومت کا تو گویا نام و نشان تک نہ تھا۔ پھر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے دوستوں کو مطلع کیا اور ہم چار طلبا نے جہاز پکڑا اور دس ستمبر کو یہاں پہنچے۔‘ اس گروپ کے بنیادی کارکنوں میں شامل ضہیب خان نے کہا کہ دلّی میں مقیم کشمیری طلبا نے بنگلور، حیدرآباد، چندی گڑھ، کولکتہ اور دوسرے شہروں میں رابطہ کرکے کشمیریوں کو موبلائز کیا تو چندہ جمع کرنے کی مہم شروع ہوئی۔

Image caption سیلاب کے بعد گھر رابطہ کرنے کی کوشش کرت رہیں لیکن کامیابی نہیں ملی

ان کا کہنا ہے: ’ہم کو سب لوگوں نے چندہ دیا۔ مجھے حیرت ہے کہ ایک کٹر ہندتوا نواز طالب علم درُو مہیشوری نے دل کھول کر چندہ دیا اور وہ اس تباہی پر خاصے پریشان تھے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ کشمیری طالب علم اس کام میں جی جان سے جُٹ گئے۔‘

کشمیر پہنچتے ہی بسما، سالک، زید اور ضہیب نامی ان نواجوانوں کو سینکڑوں رضاکاروں کی پیادہ فوج دستیاب ہوئی اور وہ سرینگر اور دوسرے اضلاع میں بچاو اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے۔

زید محمد خان کہتے ہیں: ’ کچھ کشتیاں تو ہم نے خرید لی تھیں، لیکن کچھ ہمیں فوج نے مہیا کیں۔

’وسطی سرینگر میں جواہرنگر کے قریب زید نے سیلاب میں پھنسے درجنوں افراد کو بچا لیا۔ انھوں نے بتایا ’ہم وہاں سے گزر رہے تھے تو ایک مکان سے چیخنے کی آواز آئی۔ ایک لڑکی مدد کے لیے پکار رہی تھی۔ میرے ساتھ بسما بھی تھی۔ ہم سب نے اس لڑکی کو نکالا اور ابھی ہماری کشتی کچھ ہی میٹر چل پائی تھی کہ دھڑام سے وہ مکان منہدم ہو گیا‘۔

کے وی ڈی ایف آر کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سرینگر، بانڈی پورہ ، بارہ مولہ اور اننت ناگ قصبوں میں ادویات، کپٹرے، خیمے، پانی صاف کرنے کے پیوریفائر، پانی اور غذائی اجناس تقسیم کئے گئے۔ اس سب کی مالیت پانچ کروڑ روپے تک بتائی جاتی ہے۔

Image caption ’کچھ کشتیاں ہم نے خریدیں اور کچھ فوج نے کہیا کرائیں‘

گروپ کے اہم رکن سالک نے بتایا کہ حکومت اب اس تحریک سے خائف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر چھ ٹن وزن کا سازوسامان روک دیا گیا ہے اور حکومت اس کی تقسیم کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ سالک کہتے ہیں:’یہ پہلا موقعہ ہے کہ اتنے وسیع بحران کے دوران حکومت غائب ہے اور کشمیری نوجوانوں نے کمان سنمبھالی رکھی ہے۔‘

اب حکومت چاہتی ہے کہ لوگ اس کے رحم و کرم پر زندہ رہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جو سامان ایئرپورٹ پر ہے اس سے متعلق سیکورٹی خدشات ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے۔ رضاکار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ فضائی راستے سے ریلیف کی فراہمی میں حکومت نے روڑے اٹکائے تو راجواری اور بھدرواہ سے لوگوں نے ٹرکوں کے ذریعہ امدادی سامان بھیجا جو ان نواجوانوں نے متاثرین میں تقسیم کیا۔

کشمیر کے ڈویژنل کمشنر روہت کنسل نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے ریلیف کے عمل کو نہیں روکا ہے۔ ایئرپورٹ پر ریلیف یا تو حکومت کے نام پر آتی ہے یا کسی این جی او کے تحت۔ جو سامان بغیر کسی مہر یا نام کے ہو اس کو ہم ضروری تفتیش کے بعد ہی چھوڑتے ہیں‘۔

نہ صرف دلّی بلکہ کشمیر میں مقیم ہزاروں نوجوانوں نے جس جان فشانی سے امدادی کارروائی کو اپنے ہاتھ میں لیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وزیراعلٰی عمرعبداللہ، اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی اور علیحدگی پسندوں نے الگ الگ بیانات میں نوجوانوں کی تعریف کی ہے۔

Image caption لوگوں نے دِل کھول کر چندہ دیازید محمد خان

کانگریس کے رہنما اور سابق وزیراعلٰی غلام نبی آزاد نے بتایا: ’وزیراعلی خود کہہ چکے ہیں کہ سات سے دس ستبمر تک وہ اکیلے تھے۔ اس عرصہ میں نوجوانوں نے ہزاروں لوگوں کو کندھوں پر اُٹھا کر پانی سے گھرے مکانوں سے باہر نکالا‘۔ محبوبہ مفتی نے بتایا: ’جن نوجوانوں کو ہمیشہ پولیس اور فوج کے تعاقب کا سامنا رہتا ہے، جنہیں پوری دنیا میں بدنام کیا جاتا ہے، آج ان ہی نوجوانوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر امدادی کارروائی انجام دی‘۔

حکومت نے دعوٰی کیا ہے کہ کشمیر میں 137 ایسے امدادی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں لوگوں کو مفت علاج اور دوسری سہولیات مہیا کی جارہی ہیں۔ صحافی اور رضاکار حاذق قادری نے بتایا: ’میں جنوبی کشمیر بھی گیا اور پورا سرینگر گھوما، میں نے کہیں کوئی سرکاری کیمپ نہیں دیکھا‘۔

قابل ذِکر ہے کہ حکومت کا مرکز اقتدار سول سیکریٹیریٹ ، ہائی کورٹ ، چیف جسٹس اور چند ایک کو چھوڑ کر سبھی وزرا کی رہائش گاہیں ابھی بھی زیرآب ہیں۔ کشمیر کے تجارتی مرکز لال چوک ابھی بھی پانی سے گھرا ہے۔ سرینگر کے ساٹھ فی صد علاقوں میں پانی کی موجودگی سے کی وجہ سے روز مرہ زندگی کا معمول پر آنا ابھی بھی ناممکن ہے۔

نوجوانوں نے اب ایک اور کام یہ کیا ہے کہ جن علاقوں سے پانی نکل چکا ہے وہاں مقامی رضاکاروں کے ساتھ مل کر انھوں نے صفائی کی مہم شروع کر دی ہے۔