لائن آف کنٹرول کی نگرانی میں کتوں سے مدد لی جائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption تربیت یافتہ کتّے ایک سلائیڈنگ چین کے ساتھ 800 میٹر تک گھوم کر رکھوالی کر سکیں گے

بھارتی فوج نے پاکستان سے متّصل سرحد پر تربیت یافتہ فوجی ’شوان دستہ‘ یعنی ڈاگ سكواڈ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کنٹرول لائن پر دراندازوں کا فوری طور پتہ لگانے کے لیے ان تربیت یافتہ کّتوں کے جسم میں جی پی ایس اور وائرلیس مائیکرو فون جیسے جدید آلات نصب کیے جائیں گے۔

بھارتی حکومت نے یہ قدم انڈیا پاکستان کی سرحد اور کنٹرول لائن پر دراندازی کے بڑھتے واقعات کو روکنے کے لیے اٹھایا ہے۔

کتّوں میں سونگھنے کی خاص صلاحیت ہوتی ہے جس سے وہ پوشیدہ اشیا کا آسانی سے پتہ لگا لیتے ہیں۔

سرحد پر تعینات کیے جانے والے ان کتوں کو اس مقصد کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

میرٹھ میں واقع فوج کے معروف ریماؤنٹ اینڈ ویٹرنري کور (آر وی سی) کے تربیتی مرکز میں ان کتوں کو تربیت دی گئی ہے۔

آر وی سی سے وابستہ میرٹھ کے کمانڈنٹ میجر جنرل جگوندر سنگھ نے بتایا کہ فوج کی شمالی کمان نے آر وي سي سے ایسے کتوں کی تربیت دینے کا مطالبہ کیا تھا جو کنٹرول لائن پر دراندازی روکنے میں فوج کی مدد کر سکیں۔

انھوں نے بتایا: ’اسی کے تحت جرمنی کے شیپرڈ نسل کے کتّوں کی تربیت تین ماہ پہلے شروع کی گئی تھی۔‘

میجر جنرل سنگھ نے بتایا کہ کنٹرول لائن کے لیے خاص طور پر تربیت یافتہ کتّے ایک سلائیڈنگ چین کے ساتھ 800 میٹر تک گھوم کر رکھوالی کر سکیں گے اور 300 میٹر کے فاصلے تک کسی بھی سرگرمی پر نظر رکھنے کے قابل ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ رات کے وقت کتوں کی نظر انسانوں سے کہیں بہتر ہوتی ہے اس لیے انھیں چھ چھ گھنٹے کی شفٹوں میں ڈیوٹی دینے کے لیے تعینات کیا جائےگا۔

آر وي سي کے انسٹرکٹر کرنل دیویندر سنگھ نے بتایا: ’دراندازی کی کوشش ہوتے ہی کتّے خبردار کر سکیں گے جس سے اسے آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ تر فوجی کنٹرول لائن سے تھوڑا فاصلے پر رہ کر ہی كتّوں کے ذریعے نگرانی کرنے کے قابل ہوں گے۔

اسی بارے میں