معروف اویغور ماہرِ تعلیم الہام توختی کو عمرقید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چینی ماہرِ تعلیم الہام توختی جنوری سے حراست میں ہیں اور انھیں مہینوں کسی وکیل سے ملنے سے محروم رکھا گیا

معروف اویغور سکالر الہام توختی کے وکیل نے بتایا ہے کہ چین کی ایک عدالت نے انھیں علیحدگی پسندی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

یونیورسٹی کے سابق ماہر تعلیم الہام توختی نے سنکیانگ کے علاقے میں اویغور مسلم اقلیت کے بارے میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔

الہام توختی علیحدگی پسندی کے الزامات کی تردید کرتے ہیں تاہم وہ رواں سال جنوری سے زیر حراست ہیں۔

یورپی یونین، امریکہ اور اقوام متحدہ نے ان کی رہائی کی اپیل کی ہے۔

الہام توختی کے وکیل لی فانگ پن نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

الہام توختی کو چین کے باہر ایک معتدل آواز کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیجنگ اور اویغور برادری کے درمیان بہتر بات چیت کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

الہام توختی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انھوں نے تیانانمن سکوئر کے قریب ہونے والے خود کش حملے کے بعد بیجنگ کے ردعمل پر تنقید کی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اویغور اقلیت اور چینی ہان اکثریت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں