سیلفی نے لڑکے کو شیر کے منھ میں پہنچا دیا

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
عینی شاہدین کے مطابق 12 ویں جماعت کے طالب علم نے تصویر لینے کے لیے کم از کم دو حفاظتی باڑیں عبور کیں اور تصویر لیتے وقت وہ کھائی میں گر گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

عینی شاہدین کے مطابق 12 ویں جماعت کے طالب علم نے تصویر لینے کے لیے کم از کم دو حفاظتی باڑیں عبور کیں اور تصویر لیتے وقت وہ کھائی میں گر گیا

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے چڑیا گھر میں منگل کو اس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک سفید شیر نے ایک نو عمر لڑکے کو ہلاک کر ڈالا۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ لڑکا چڑیا گھر میں سفید شیر کے احاطے کے پاس اپنے موبائل فون سے سیلفی فوٹو لینے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران دیوار سے نیچےگرگیا۔

نئی دہلی کے چڑیا گھر میں جس جگہ شیر رکھے گئے ہیں وہاں تماشائیوں کو تین حفاظتی حصاروں کی دوری سے شیروں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ جس حصار میں شیروں کو رکھا گیا ہے وہاں تماشائیوں اور شیروں کے درمیان ایک گہری گھائی بھی بنائی گئی ہے تاکہ شیر باہر نہ آ سکیں۔

عینی شاہدین کے مطابق 12 ویں جماعت کے طالب علم نے تصویر لینے کے لیے کم از کم دو حفاظتی باڑیں عبور کیں اور تصویر لیتے وقت وہ کھائی میں گر گیا۔

وہاں موجود کئی تماشائیوں نے اس خوفناک منظر کو موبائل کے ذریعے ریکارڈ کر لیا۔

ان مناطر سے پتہ چلتا ہے کہ شیر نے نو عمر لڑکے پر ابتدائی چند منٹ تک کوئی حملہ نہیں کیا اور وہ کچھ دوری پر لاتعلق بیٹھا رہا، لیکن لڑکےکو بچانے کے لیے تماشائیوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور کچھ لوگوں نے شیر پر پتھراؤ کیا۔

پتھراؤ کے نتیجے میں شیر مشتعل ہو گیا اور اس نے لڑکے کوگردن سے دبوچ لیا اور چند ہی منٹوں میں اسے ہلاک کر دیا۔

شیر 12 منٹ تک اس لڑکے کو گردن سے دبوچ کر اپنے حصار میں دوڑتا رہا۔

چڑیا گھر کے محافظ تقریباً 20 منٹ بعد وہاں پہنچے۔

پولیس اس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔