بھارت: کوئلے کی سینکڑوں کانوں کی الاٹمنٹ منسوخ

  • سہیل حلیم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
،تصویر کا کیپشن

اس فیصلے سے بھارت کے مختلف حصوں میں دو لاکھ کروڑ روپے کے پراجیکٹ متاثر ہوسکتے ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے کوئلے کے ان تمام بلاکس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی ہے جو ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی کمپنیوں کے سپرد کیے گئے تھے۔

عدالت نے سنہ 1993 سے لے کر سنہ 2010 کے درمیان الاٹ کیے جانے والے 218 بلاکس میں سے صرف چار کے علاوہ باقی سب کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان بلاکس میں جو کمپنیاں کان کنی شروع کر چکی ہیں انھیں چھ مہینے تک کوئلہ نکالنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس دوران حکومت متبادل انتظامات کرے گی۔

کوئلے کی یہ کانیں بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی کے دور اقتدار میں الاٹ کی گئی تھیں۔

جن چار بلاکس کی الاٹمنٹ برقرار رکھی گئی ہے وہ سرکاری کمپنیوں کے پاس ہیں اور ان میں کسی نجی کمپنی کی شراکت نہیں ہے۔ ان میں سے دو بلاک جھارکھنڈ میں اور دو مدھیہ پردیش میں ہیں۔

حکومت پہلے ہی یہ پالیسی وضع کر چکی ہے کہ موبائل فون سروسز کے لائسنسوں کی طرح کوئلے کی کانیں بھی اب کھلی نیلامی کے ذریعہ الاٹ کی جائیں گی۔

حکومت کے وکیل اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے مطابق نجی کمپنیوں کو اب یہ کانیں نیلامی کے ذریعہ ہی دی جائیں گی لیکن یہ شرط سرکاری کمپنیوں پر نافذ نہیں ہوگی۔

کان کنی کرنے والی کمپنیوں کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ انھوں نے جتنا بھی کوئلہ اب تک نکالا ہے یا آئندہ چھ مہینوں میں نکالیں گی، اس کے لیے انھیں حکومت کو فی ٹن 295 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

،تصویر کا کیپشن

کوئلے کی یہ کانیں بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی کے دور اقتدار میں الاٹ کی گئی تھیں

سرکاری سودوں کے نگراں ادارے سی اے جی کے مطابق الاٹمنٹ میں بےضابطگیوں کی وجہ سے حکومت کو فی ٹن اتنا نقصان ہو رہا ہے۔

کوئلے کی یہ کانیں بجلی، سیمنٹ اور فولاد بنانے والی بڑی کمپنیوں کے پاس ہیں اور عدالت کے فیصلے سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ان کانوں سے ملک میں کوئلے کی صرف سات فیصد ضرورت پوری ہوتی ہے اور عدالت کے فیصلے سے توانائی کے شعبے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

عدالت نے 25 اگست کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مختلف حکومتوں کے دور میں یہ کانیں من مانی کرتے ہوئے الاٹ کی گئی تھیں۔

اس فیصلے سے ملک کے مختلف حصوں میں دو لاکھ کروڑ روپے کے پروجیکٹ متاثر ہوسکتے ہیں۔

کانوں کی الاٹمنٹ کا تنازع اگست 2012 سے سرخیوں میں ہے جب سی اے جی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے سرکاری خزانے کو تقریباً ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔

اس رپورٹ کے بعد حزب اختلاف بی جے پی نے وزیراعظم من موہن سنگھ کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا تھا کیونکہ کچھ عرصے تک کوئلے کی وزارت کا قلمدان ان کے پاس بھی تھا۔ اس کیس کی تفتیش سی بی آئی کر رہی ہے۔