’آسمان سے دیکھنے پر سرینگر بہت خاموش لگتا ہے‘

  • سہیل اکرم
  • بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا کیپشن

ستمبر کے اوائل میں آنے والے سیلاب میں تقریباً 270 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

گذشتہ دنوں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مجھے اپنے گھر والوں سے بات چیت کے دوران کشمیر کے سیلاب کی تباہ کاریوں کا قدرے اندازہ ہونے لگا تھا۔

لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کی طغیانی انھوں نے کبھی نہیں دیکھی۔

یہ سات ستمبر، اتوار کا واقعہ ہے اور سری نگر کا بہت سا حصہ پانی کی زد میں آ چکا تھا اور شہر کے نواح میں ہمارا پڑوس شاید بخیر و عافیت تھا۔

لیکن رات گئے میرے بھائی نے فون کیا۔ عام طور پر وہ فون پر بھی زیرِ لب ہی بات کیا کرتا تھا اور مجھے اسے باآوازِ بلند بولنے کے لیے کہنا پڑتا تھا لیکن اس دن وہ چیخ رہا تھا۔

جب میں نے اس سے یہ کہا کہ تم گھر والوں کو لے کر پہلی منزل پر چلے جاؤ تو اس نے مجھے تقریباً جھڑك دیا۔

اس نے کہا کہ گھر کے پیچھے دھان کے کھیت سے پانی تیزی سے آ رہا ہے۔

وہاں سے بہت دور دہلی میں اس لفظ کو سن کر میں کانپ گیا کہ پانی تیزی سے آ رہا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

بی بی سی کے میرے ایک ساتھی نے بتایا کہ آسمان سے دیکھنے پر سرینگر بہت خاموش لگتا ہے لیکن جیسے ہی آپ زمین پر اترتے ہیں تو آپ کو سیلاب کے خوفناک مناظر کا احساس ہوتا ہے

دھان کے ان کھیتوں کے پیچھے بپھرا ہوا جہلم دریا سانپ کی طرح مچل رہا تھا اور مجھے وہ آہستہ آہستہ وہ اپنی ہی حدیں توڑتا نظر آ رہا تھا۔

گھنٹے بھر میں ہی بھائی نے پھر فون کیا۔

ہماری بات چیت بہت بے ربط رہی: ’ہم گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ پڑوس کے تمام لوگ اونچی جگہ جا رہے ہیں. ہم مین روڈ پر واقع تین منزلہ شاپنگ كمپلكس میں پناہ لے سکتے ہیں۔‘

پھر چار دنوں تک گھر والوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ وہ چار دن بہت مشکل تھے، اور میرے خیال میں یہ مشکل گھڑی بہت سے لوگوں پر گزری ہو گی۔

جرمنی میں موجود میرے ایک کشمیری دوست نے بتایا کہ وہ کئی دنوں تک عبادت سے اٹھا ہی نہیں۔ وہ خدا سے بس یہی دعا کرتا رہا کہ ایک بار، آخری بار، گھر والوں سے بات ہو جائے۔

،تصویر کا کیپشن

امدادی کام جاری ہے تاہم کشمیر کو سنبھلنے میں بہت وقت لگ جائے گا

اس ایک ہفتے تک کشمیر کا کمیونٹی نیٹ ورک خاموش ہو گیا تھا۔ فون لائنیں کام نہیں کر رہی تھیں۔

وادی کے باہر رہنے والے کشمیری سوشل میڈیا کے تقریباً ہر کونے پر اپنے لوگوں کی ایک خبر کے لیے ترس رہے تھے۔ اور پھر آہستہ آہستہ خبریں آنی شروع ہوگئیں۔

وادی کی دل دہلا دینے والی جو پہلی تصاویر سامنے آئیں ان میں ایک خاندان پانی کے ایک پلاسٹک کے ٹینک میں ایک بیمار خاتون کو لیے جا رہا تھا۔

میرے بی بی سی کے ایک ساتھی کشمیر سے رپورٹنگ کر کے واپس لوٹے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ آسمان سے دیکھنے پر سرینگر بہت خاموش لگتا ہے، لیکن جیسے ہی آپ زمین پر اترتے ہیں تو آپ کو سیلاب کے خوفناک مناظر کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں سب کچھ برباد ہو گیا ہے۔

کشمیر کو واپس سنبھلنے میں مہینوں لگ جائیں گے۔ فون لائنیں کسی حد تک بحال ہو چکی ہیں۔ جب بھی گھر والوں سے بات کرتا ہوں، غم اور اداسی کی ایک نئی کہانی سنتا ہوں۔