افغانستان: شوہر نے بیوی کی ناک کاٹ دی

Image caption متاثرہ خاتون ہسپتال میں زیرعلاج ہے

افغانستان کے وسطی صوبے دایکندی میں پولیس ایک شخص کو تلاش کر رہی ہے جس نے مبینہ طور پر چاقو سے اپنی اہلیہ کی ناک کا ایک حصہ کاٹ ڈالا تھا۔

افغان صوبے دایکندی کے امور خواتین کے محکمے کی سربراہ ذکیہ راضی نے کہا ہے کہ ملزم اس سے پہلے بھی اپنی اہلیہ پر تشدد کرتا رہا تھا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یہ خاتون متعدد بار گھریلو تشدد کا نشانہ بن چکی ہے اور اس کا شوہر تشدد پسند شخص ہے۔

ان کے بقول ملزم نے اس سے پہلے ایک موقع پر اپنی اہلیہ کے ناخن کھینچے تھے اور ایک اور موقع پر انھیں کھانے اور پانی کے بغیر ایک ہفتہ قید میں بھی رکھا۔

افغانستان میں جسم کے اعضا کاٹنے کے واقعات اتنے عام نہیں ہیں تاہم پچھلے برس ملک کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

صوبے میں جرائم کی روک تھام کی محکمے کے سربراہ محمد علی عطائی کے مطابق شوہر نے اپنی بیوی کی ناک کے ایک حصے کو باورچی خانے میں استعمال ہونے والی چھری سے کاٹ دیا۔اس خاتون کی عمر 20 سال بتائی جا رہی ہے اور اس وقت ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے خاتون کو ہسپتال منتقل کر دیا جبکہ اس کا خاوند فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ابھی تک خاتون کے اہل خانہ نے کسی قسم کا بیان دینے سے گریز کیا ہے جس کی وجہ سے اس واقعے سے متعلق معلومات کافی مبہم ہیں۔

گذشتہ سال بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک 30 سالہ خاتون کے شوہر نے ان کی ناک اور ہونٹ چھری سے کاٹ دیے تھے۔

ہسپتال میں زیرعلاج صوبے ہرات کی رہائشی ستارہ بی بی نے بتایا تھا کہ ان کی شادی 11 سال کی عمر میں ہو گئی تھی اور ان کا شوہر منشیات کا عادی ہے۔

ستارہ بی بی کے مطابق ان کے شوہر نے ان سے زیورات دینے کا مطالبہ کیا اور انکار پر تشدد کر کے نیم بے ہوش کر دیا اور اس کے بعد چھری سے ان کا ناک اور ہوٹ کاٹ دیا۔

حالیہ واقعے سے افغانستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے کیونکہ اب ملک میں ماضی کے برعکس میڈیا اب ایسے واقعات کو سامنے لا رہا ہے۔

گھریلو تشدد کا شکار بہت ساری خواتین اس بارے میں بات کرنے سے گریز کرتی ہیں جس کی وجہ پولیس اور عدالتی نظام پر عدم اعتماد ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں