افغانستان کے نئے صدر اور چیف ایگزیکٹیو نے حلف اٹھا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نومنتخب افغان صدر اشرف غنی سے ملک کے چیف جسٹس نے حلف لیا

افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی اور ملک کے پہلے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے پیر کو کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی ایک تقریب میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔

اشرف غنی نے حامد کرزئی کی جگہ لی ہے جنھوں نے 13 برس تک افغانستان کا صدر رہنے کے بعد یہ عہدہ چھوڑا ہے۔

افغانستان کے نئے صدر کی حلف برداری افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج پر تین ماہ سے جاری تنازعے کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہو پائی ہے۔ اشرف غنی اور ان کے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ دونوں ہی جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہونے کے دعویدار تھے۔

ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد الیکشن کمیشن نے اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا مگر عبداللہ عبداللہ نے اس نتیجے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم امریکہ اور اقوام متحدہ کی کوششوں کے بعد دونوں نے قومی حکومت بنانے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت اشرف غنی صدر اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ سنبھالیں گے۔

طالبان نے اس معاہدے کو ’امریکہ کا مرتب کردہ فریب‘ قرار دیا ہے جبکہ اشرف غنی نے اسے ’بڑی فتح‘ سے تعبیر کیا ہے۔

نومنتخب افغان صدر اشرف غنی سے ملک کے چیف جسٹس نے حلف لیا جس کے بعد انھوں نے پہلے ملک کے پہلے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کی تعیناتی کے قانون پر دستخط کیے اور پھر ان سے حلف لیا۔

حلف برداری کے بعد عبداللہ عبداللہ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ کل کے حریف آج ایک ٹیم بن چکے ہیں اور وہ مل کر ملک کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔

نومنتخب صدر اشرف غنی نے اپنی تقریر میں اپنے انتخاب پر ملک کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ اقتدار کی جمہوری منتقلی قابلِ تعریف ہے۔

اشرف غنی نے اتحادی حکومت کے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی حکومت عوامی امنگوں پر پورا اترے گی اور انتخابی کشیدگی کو اب ختم ہو جانا چاہیے۔

انھوں نے حکومتی امور چلانے میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ غلط فیصلے کریں تو ان پر تنقید کی جائے۔

اس تقریب میں ملک کے دو نئے نائب صدور عبدالرشید دوستم اور سرور دانش اور چیف ایگزیکٹیو کے دو معاونین نے بھی اپنے عہدوں کا حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب سے سبکدوش ہونے والے افغان صدر حامد کرزئی نے بھی خطاب کیا۔

اپنے الوداعی خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں خوشی ہے کہ 13 برس بعد اقتدار جمہوری طور پر منتقل ہو رہا ہے اور افغانستان اپنے دوست ممالک کی مدد سے مستحکم ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے اتوار کو کابل میں قومی حکومت کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے

انھوں نے کہا کہ وہ نئے صدر، حکومت اور آئین کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار ہوں گے۔

حامد کرزئی کے خطاب کے اختتام پر تقریب میں موجود افراد نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور انھیں الوداع کہا۔

تقریبِ حلف برداری میں غیر ملکی رہنماؤں اور سفیروں سمیت سینکڑوں اہم شخصیات موجود تھیں۔

اس تقریب میں پاکستان کی نمائندگی صدر ممنون حسین نے کی جبکہ سابق پاکستانی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور محمود خان اچکزئی اور اسفندیار ولی جیسے سیاست دان بھی وہاں موجود تھے۔

صدر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب سے قبل کابل میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ شہر کے اطراف میں اضافی پولیس چوکیاں بنائی گئیں جبکہ ہزاروں پولیس اہلکار گشت کرتے رہے۔

اسی بارے میں