بھارت میں مضرِ صحت کیڑے مار ادویات کااستعمال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیڑے مار ادویات کا کاروبار کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ لوگ پرانی اور خطرناک ادویات کو ہاتھ سے استعمال کرنے کی وجہ سے بیمار پڑ جاتے ہیں

جب ترقی یافتہ دنیا نئی پییسٹیائٹس یا کیڑے مار ادویات اور اس سے ہونے والے نقصانات پر توجہ کیے ہوئی ہے تو اس حقیقت کو با آسانی نظر انداز کیا جاتا ہے کہ ترقی پزیر ممالک میں ابھی تک پرانی ادویات استعمال ہوتی ہیں۔

ان میں سب سے بڑا چیلنج بھارت ہے جو زرعی اشیا پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور زرعی کیمیائی اشیا کا ایک اہم برآمد کنندہ کے طور پر ابھرا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے بھارتی ریاست پنجاب میں کی جانے والی مقامی سطح پر تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں پر کسان وہی کیڑے مار ادویات استعمال کرتے ہیں جس پر بھارتی حکومت نے پابندی عائد کی ہے۔

ضلح سانگرور میں ایک کسان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کی ٹیم کو دکھایا کہ وہ اب بھی فصلوں کی حفاظت کے لیے انڈوسلفان استعمال کرتے ہیں جو کہ ایک بہت ہی مضرِ صحت دوا ہے جس پر پابندی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے اسے گذشتہ سال اس وقت خریدا جب کیڑے بہت سخت جان تھے اور ان پر کوئی دوا اثر نہیں کر رہی تھی۔‘

انھوں نے اپنی کپاس کی فصل کے اندر جا کر کیڑے مار دوا کے ڈبے کو درخت میں چھپاتے ہوئے کہا کہ ’شاید مجھے اس کی دوبارہ ضرورت پڑے جب کیڑے پھر سے آ جائیں۔‘

قریبی کھیت میں ایک کسان ہردارشن سنگھ بغیر دستانے پہنے دومختلف کیمیائی مواد کوآپس میں ملا رہا تھا۔ اور پھر بغیر دستانے، ماسک، چشمہ یا تحفظ کے لیے مخصوص کپڑے پہنے اسے فصل پر سپرے کر رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں ایسا کرتے ہیں۔ہمارے لیے یہ ٹھیک ہے۔ ہم بہت سخت لوگ ہیں۔‘

سپرے ختم کرنے تک ان کے ہاتھ نیلے پڑ گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بعد میں ان کے ہاتھ سرخ ہو جائیں گے اور بہت دنوں تک ایسے ہی رہیں گے۔

سوخونتہ سنگھ نے جو اسی ضلع میں گذشتہ 75 سال سے کاشت کاری کرتے ہیں کہا کہ یہاں ہر چیز بہت آلودہ ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری بہن اور بیوی کینسر کی وجہ سے مر گئیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ کیڑے مار ادویات سے پیدا ہونے والی آلودگی کی وجہ سے ہوا۔آج کل پنجاب میں بہت سے لوگ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔‘

اگرچہ پنجاب میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کیڑے مار ادویات کی زیریلی آلودگی کی وجہ سے یہاں کنسر کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس حوالے سائنسی بنیادوں پر کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر یا ایف اے او کے سینیئر پالیسی آفیسر ہیری وان در ولپ نے کا کہنا ہے کہ ’مضرِ صحت اور پرانی کیڑے مار ادویات کی بھارت میں بھی استعمال کا ریکارڈ ہے۔‘

ترقی پزیر ممالک میں زہرآلودہ کرنے کا مسئلہ پیدا کرنے والی ادویات میں مونو کروٹوفوس اور میتائل پیراتھن شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 75 سالہ سوخونتہ سنگھ نے کہتے ہیں کہ یہاں ہر چیز بہت آلودہ ہو گئی ہے

اقوامِ متحدہ کے ایک اور ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بڑے ایشیائی ممالک میں مضرِ صحت ہونے کی وجہ سے مونو کروٹوفوس پر پابندی ہے لیکن بھارت میں اسے تیار اور استعمال کیا جاتا ہے اور برآمد بھی کیا جاتا ہے۔

کیڑے مار ادویات کا کاروبار کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ لوگ پرانی اور خطرناک ادویات کو ہاتھ سے استعمال کرنے کی وجہ سے بیمار پڑ جاتے ہیں۔

قریبی گاؤں لہرگاگا کے ایک تاجر گیورندرا سنگھ نے کہا کہ’ مثال کے طور پر مونو کروٹوفوس کا سبزی پر استعمال ممنوعہ ہے۔ اور یہ اس کے ہر پیکٹ پر واض لکھا ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’لیکن جو کسان ہم سے یہ خریدتے ہیں وہ عموماً اسے سبزی پر استعمال کرتے ہیں اور اپنی خفاظت بھی نہیں کرتے۔ اسی طری پرانی دوا مالاتھئین کا یہی حال ہے۔‘

بھارت میں کیڑے مار ادویات تیار کرنے والے کار خانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تیارہ کردہ کوئی دوا بھی مضرِ صحت نہیں ہیں اور ان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

ادھر بھارت کے وزارتِ زراعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سواپان کے دتہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کسان کیڑے مار ادویات کا احتیاط کے استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے آپ کو محفوظ کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت جب بہت سے کیمیائی مواد پر پابندی عائد کرتی ہے تو بعض اوقات مقامی کارخانے دار یہ کیمیائی مواد تیار کرتے ہیں اور کسان اس کے استعمال کا طریقہ نہیں جانتے۔‘

بھارتی حکومت نے حالیہ بجٹ بیان میں کہا تھا کہ کیڑے مار ادویات کی وجہ سے پانی کے ذخائر آلودہ ہو جاتے ہیں اور حکومت پانی کی صفائی کے 20 ہزار مقامات پر سینٹر بنانے کے لیے فنڈز مختص کیے۔

ماہرین نے ماضی میں اس کی نشاندہی کی ہے کہ بھارت نے کیڑے مار ادویات کی استعمال کے حوالے سے کارروائی کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششوں کی حمایت نہیں کی۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ترجیح ملک میں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے نہ کہ ادویات کے استعمال کو کنٹرول کرنا جسے کسان فصل بڑھانے کے لیے عرصۂ دراز سے استعمال کرتے ہیں۔