’معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے‘ افغان طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اآاآاامریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے معاہدے کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے

افغان طالبان نے امریکہ اور افغانستان کے درمیان ہونے والے دو طرفہ سیکیورٹی معاہدے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان میں موجود امریکی غلاموں کا اصل چہرہ افغان عوام پر آشکار ہو گیا ہے۔‘

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو جاری کئیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’انہوں نے افغان عوام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ یہ لوگ امریکی غلام ہیں، انہیں افغانوں کے بھیس میں ہم پر مسلط کیا گیا ہے اور چند ڈالروں کی خاطر یہ افغانستان اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔‘

افغانستان کی نئی حکومت نے منگل کو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے۔

اس دستخط کے بعد اس سال کے آخر تک افغانستان سے زیادہ تر نیٹو افواج واپس چلی جائیں گی جبکہ 9800 امریکی فوجی وہیں رہیں گی۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل حکومت نے اس معاہدے پر دستخط تو کر دئیے ہیں لیکن اس میں افغان عوام کی مرضی شامل نہیں۔

’ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے غلاموں کے خلاف شروع کیا گیا جہاد تب تک جاری رہے گا، جب تک افغانستان کو امریکہ سے مکمل طور پر آزاد نہیں کرا لیا جاتا اور ایک مستحکم اسلامی حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔‘

’ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے اور اس کی حمایت کرنے والے، افغانستان کت تاریخ میں غلاموں کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے اور انہیں وہی سزا دی جائے گی جو کہ اس سے پہلے غلاموں کو دی گئی تھی۔‘

اسی بارے میں