انڈیا ڈائری: مودی نے محفل لوٹ لی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ میں مودی کا ایسا پرجوش استقبال ہوا جیسے وہ امریکہ کے صدر کا انتخاب لڑ رہے ہوں، یا صدر منتخب ہوگئے ہوں

مودی نے محفل لوٹ لی

نریندر مودی کو امریکہ پہنچنےمیں تو دیر لگی لیکن محفل لوٹنے میں نہیں۔

وہ جتنے دن امریکہ میں رہے، ہندوستانی اخبارات میں باقی خبریں مشکل سے ہی نظر آئیں۔ نیویارک کے اس مشہور میڈیسن سکوئر گارڈن میں جہاں کبھی محمد علی باکنسگ رنگ میں اپنا جوہر دکھایا کرتے تھے، اپنے 56 انچ کے سینے کے ساتھ مودی اکیلے ہی میدان میں اترے اور انھیں واک اوور مل گیا۔

ایسا لگا جیسے وہ امریکہ کے صدر کا انتخاب لڑ رہے ہوں، یا صدر منتخب ہوگئے ہوں۔

جس والہانہ انداز میں ان کا ہر جگہ استقبال ہوا اور جس بڑی تعداد میں لوگ ان کے دیدار کے لیے سڑکوں پر نکل کر آئے اسے دیکھ کر سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھی اپنا پاسپورٹ تو ضرور نکالا ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ وزیر اعظم تو وہ بھی تھے لیکن یو این کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے 2004 سے 2013 تک وہ کسی غلط جگہ تو نہیں جا رہے تھے۔

جے للتا جیل میں

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للتا سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے اداکارہ تھیں

ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا جو کرتی ہیں لوگ اسے یاد رکھتے ہیں۔

سنہ 1999 میں انھوں نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کا تختہ الٹا تھا، بی جے پی کو شاید آج تک یاد ہوگا۔

پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد 1995 میں انھوں نے اپنے منہ بولے بیٹے کی شادی کی اور ایسا لگا کہ جیسے کسی فراخ دل اور عوام دوست بادشاہ نے سرکاری خزانوں کے دروازے کھول دیے ہوں۔

مہمانوں کی تعداد اتنی تھی کہ عالمی ریکارڈ قائم ہوگیا۔ یقین نہ آئے تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز اٹھاکر دیکھ لیجیے جس کے مطابق استقبالیے میں ڈیڑھ لاکھ مہمانوں نے شرکت کی تھی۔

بہرحال، وہ جو کرتی ہیں انجام کی پروا کیے بغیر ہی کرتی ہیں اور اب نہ چاہتے ہوئے انھوں نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

کرسی چھوڑنے کے بعد جیل جانےوالے سابق وزرائے اعلیٰ کی فہرست تو لمبی ہے لیکن جے للیتا پہلی وزیر اعلیٰ ہیں جنھیں عہدے پر فائز رہتے ہوئے ہی بدعنوانی کے جرم میں جیل بھیجا گیا ہے۔

کس نے کہا وقت بدل رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ KALYAN KUMAR
Image caption بہار کے وزیر اعلیٰ کا الزام ہے کہ ان کی پوجا کے بعد مندر کو دھو دیا گیا

لیکن اگر یہ سن کر آپ کو لگے کہ ہندوستان میں وقت بدل رہا ہے تو رائے قائم کرنے میں جلد بازی مت کیجیے گا۔

بہار کے وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔ مانجھی کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ہفتے وہ پوجا کے لیے ایک مندر میں گئے تھے لیکن ان کی واپسی کے بعد مندر اور وہاں نصب بھگوان کی مورتی دونوں کو دھو دیا گیا کیونکہ ان کا تعلق نچلی ذات سے ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا ہےکہ مندر دھلوانے والے لوگ اپنے ذاتی کام کروانے کے لیے ان کے پیر چھونے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

مریخ کا سفر کوڑیوں کے دام میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت نے اس مشن پر ساڑھے چارسو کروڑ روپے صرف کیے ہیں

لیکن آپ یہ رائے قائم کرنے میں بھی جلد بازی مت کیجیے گا کہ ہندوستان میں کچھ نہیں بدل رہا۔ ملک کے سائنس دانوں نے اپنا خلائی جہاز منگل یان مریخ کے مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل کرایا ہے اور وہ بھی کوڑیوں کے دام۔

وزیر اعظم مودی نے امریکہ میں کہا کہ ملک میں آٹو رکشہ کا کرایہ دس روپے فی کلومیٹر ہے اور خلائی مشن پر صرف سات روپے فی کلومیٹر خرچ ہوئے۔

مودی صاحب، آپ کسی بھی آٹو رکشے والے سے بات کر لیجیے، 65 کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کریں گے تو کوئی بھی آٹو والا سات روپے کلومیٹر سے کم میں بھی مان جائے گا۔

یہ بزنس کا بنیادی اصول ہے اور شاید اسی بنیاد پر کانگریس کی سابقہ حکومت کے خلاف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا ایک اور مقدمہ بھی قائم کیا جانا چاہیے۔

جو کام آٹو سے ہو سکتا تھا اس کے لیے خلائی راکٹ استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

لیکن اگلے خلائی مشن کے لیے جلدبازی میں آٹو رکشہ طے مت کر لیجیے گا، یہ لوگ بہت موڈی ہوتے ہیں، مشن مریخ کے لیے ہوگا، چھوڑ مشتری پر چلے جائیں گے۔

اسی بارے میں