گوا: دہری شہریت رکھنے پر سینکڑوں افراد پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان افراد کے خلاف یہ مقدمات فارنرز ایکٹ اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں

بھارتی ریاست گوا میں پولیس نے بھارت کے ساتھ ساتھ پرتگال کی شہریت رکھنے کے الزام میں 500 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق غیر قانونی طور پر دوہری شہریت کے حامل ان افراد میں سے پولیس کے دو اعلیٰ عہدیداران اور چھ عدالتی ملازمین بھی شامل ہیں۔

ان افراد پر بھارتی پاسپورٹ رکھتے ہوئے کسی غیر ملک کی شہریت لینے کا الزام ہے جو کہ بھارت میں قانوناً جرم ہے۔

بھارتی قانون کے مطابق اگر کوئی شہری کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرے تو ایسی صورت میں وہ بہت سی سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے اہل بھی نہیں رہتا۔

بھارتی روزنامے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پولیس نے اپنے ایس پی جوش ایلن دیسا اور پولیس انسپکٹر ایڈون کولاکو کے علاوہ گوا میں ممبئی ہائی کورٹ کے چھ ملازمین، 43 وکلا سمیت 500 ایے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جو گوا میں ملازم ہیں یا پھر ریٹائر ہو چکے ہیں۔

ان افراد کے خلاف یہ مقدمات فارنرز ایکٹ اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل مقامی فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ نے کرائم برانچ کو ہدایت کی تھی کہ وہ قانون ساز اسمبلی کے دو ممبران خلاف بھی دہری شہریت رکھنے کا مقدمہ درج کریں۔

ان ارکان میں بی جے پی کے گلِن ٹکلو اور گوا ویکاس پارٹی کے سیٹو سلوا، ڈی سا اور کولاکو شامل ہیں۔

دو روز قبل کرائم برانچ نے پولیس کو متعلقہ رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کو کہا تھا تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ میں گلِن ٹکلو اور ڈی سلوا کے مقدمہ موخر ہیں جن کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

گوا، پرتگال کی نوآبادی رہا ہے اور یہاں کے بہت سے مقامی پرتگال کی شہریت حاصل کرنے کی شرائط پر پورے اترتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق گوا کے 40 ہزار سے زائد رہائشیوں کے پاس پرتگالی شہریت ہے۔