’ہم کیا عید منائیں، ہمارے دل جل رہے ہیں‘

Image caption شہزادہ کی بیاض کے پہلے صفحہ پر ان کے بیٹے یاسر رفیق کی تصویر ہے

60 سالہ شہزادہ رفیق اُن لاکھوں خواتین کی طرح اپنے آشیانہ کی تباہی پر مایوس ہیں جن کا تباہ کن سیلاب نے سب کچھ لوٹ لیا۔

لیکن اس سب پر واویلا کرنے کے لیے شہزادہ نے سب سے الگ ذریعہ تلاش کیا ہے۔ محض دسویں درجہ تک تعلیم یافتہ شہزادہ مرثیہ لکھتی ہیں۔

شہزادہ کا بیٹا 2010 میں کرفیو کے دوران بھارتی فورسز کی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا تھا، تب سے وہ ہر عید پر اپنے بیٹے کی یاد میں اشعار لکھتی رہی ہیں۔

حالیہ سیلاب نے ان کی فنی حس میں مزید ارتعاش پیدا کیا ہے۔ بیٹے کی موت کا صدمہ تو تھا ہی، بیٹی کی شادی سے چند روز قبل کشمیر میں تباہ کن سیلاب آیا جس میں ان کا سب کچھ برباد ہوگیا۔ اب وہ رشتہ داروں کے یہاں پناہ گزیں ہیں ۔

پورے کشمیر میں گذشتہ ماہ جو تباہ کن سیلاب آیا، اس نے شہزادہ جیسی ہزاروں خواتین کی زندگی کو بے نور کر دیا۔ اس خطرناک آفت میں ہلاکتوں کی تعداد تو تین سو سے کم رہی لیکن اربوں روپے مالیت کا اسباب حیات اور تجارتی سازو سامان تباہ ہوگیا۔

صحت، مواصلات اور تعلیم کے شعبے کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی پوری طرح بحال نہیں ہو پائے ہیں اور تاجر برادری جو عید پر ہونے والی خریداری سے منافعوں کی امید لگائے بیٹھی تھی، آج خسارے کا حساب لگانے میں مصروف ہے۔

تاجر تنظیموں نے ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا ہے جو خسارے اور تباہی کے لیے سرکاری معاوضہ کے مطالبہ کے لیے تحریک چلا رہا ہے۔

Image caption کئی دنوں تک کشمیر کے متعدد علاقے پانی میں ڈوبے رہے

فورم کے ترجمان سجاد گُل نے بتایا: ’ہم کیا عید منائیں، ہمارے دل جل رہے ہیں۔ حکومت نے ہماری اقتصادی بحالی کے لیے اقدامات نہیں اُٹھائے تو یہاں حالات خراب ہوجائیں گے۔ ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا، اور ابھی بھی بازار ویران ہیں۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کی وجہ سے جموں کشمیر کی مجموعی اقتصادیات کو ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ساڑھے تین لاکھ مکانات تباہ ہو گئے۔ حکومت نے مالی معاوضہ کا اعلان تو کیا ہے، لیکن اکثر لوگ ناراض ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محض تخمینہ لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔وہ بحالی چاہتے ہیں۔ کشمیر کی انتظامیہ کے اعلیٰ ترین افسر اقبال کھانڈے نے بتایا کہ حکومت مرحلہ وار طریقہ پر بحالی کا ایک منصوبہ بنایا ہے۔

عیدالاضحٰی کے موقعہ پر کشمیر میں ہر طرف قربانی کے جانوروں کی نیلامی کا چرچہ ہوتا تھا۔ لیکن آج یہاں ہر طرف مایوسی اور بربادی کے نظارے ہیں۔گذشتہ 25 سال کے دوران کئی مرتبہ عیدین کے موقع پر کشمیر میں ہلاکتوں کے سانحے ہوئے۔

2005 میں آئے زلزلے میں ڈیڑھ ہزار لوگ مارے گئے۔ اس بار سیلاب میں تین سو سے بھی کم ہلاکتیں ہوئیں، لیکن کشمیر کا اقتصادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

ماہرین کہتے ہیں کشمیر میں اس شدت کا سیلاب 112 برس بعد آیا ہے۔

Image caption سیلاب اور بارشوں سے کشمیر کا اقتصادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا

دانشور اور کالم نویس جاوید نقیب کہتے ہیں: ’تاریخ نے1902 کا وہ سیلاب بھی درج کیا ہے جب پورا کشمیر چھ ماہ تک سیلابی پانی میں ڈوبا رہا۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہاں کی حکومت اس قابل بھی نہ ہو سکی کہ کم از کم دارالحکومت کو ہی سیلاب سے بچاتی۔‘

تاجروں اور علیحدگی پسندوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ عید سادگی سے منائی جائے۔

لال چوک کی رہنے والی شہزادہ رفیق کہتی ہیں: ’اس میں اپیل کی ضرورت نہیں تھی۔ کون ہے جو سوگوار نہیں ہے۔ میں تو صرف اپنی ڈائری بچا پائی ہوں۔‘

شہزادہ کی بیاض کے پہلے صفحے پر ان کے بیٹے یاسر رفیق کی تصویر ہے اور اس کے بعد انھوں نے نثر اور نظم دونوں اصناف کا استعمال کرتے ہوئے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

سیلاب کے تین روز بعد انھیں گھر سے مقامی رضاکاروں نے نکالا۔ ایک ہوٹل میں دس روز تک پناہ کے دوران انہوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے:

عید ہے اور تیری یاد ہے

تیرا کشمیر آج برباد ہے

دل ہیں مجروح، چہرے مایوس ہیں

ہر سو خوشیوں کی قبریں آباد ہیں

اسی بارے میں