عمر پانچ سال قد تقریباً پونے چھ فٹ

تصویر کے کاپی رائٹ KAMRAN ZUBERI
Image caption کرن دوسری جماعت میں پڑھتا ہے اور یہاں اسے اپنی کلاس کے بچوں کے ساتھ دیھکا جا سکتا ہے

’مجھے سکول جانا بالکل پسند نہیں۔ میری سکول اور کلاس کے بچے مجھ سے بات نہیں کرتے۔ وہ میرے ساتھ کھیلتے بھی نہیں ہیں۔ وہ مجھے بڑی کلاس کا بچہ سمجھتے ہیں۔ جب انھیں بتاتا ہوں کہ میں ان کی ہی عمر کا ہوں اور صرف میری لمبائی زیادہ ہے تب بھی وہ یقین نہیں کرتے۔‘

یہ کہنا ہے پانچ سال کے کرن کا جو دوسری کلاس میں پڑھتا ہے اور اس کا قد ہے پانچ فٹ آٹھ انچ۔

کرن کا نام دنیا کے سب سے لمبے بچوں میں شامل ہے لیکن اس شہرت کے پیچھے درد بھی چھپا ہے۔

کرن کے ہم عمر بچے اسے اپنی عمر کا تسلیم نہیں کرتے اور اس کے سکول کے بڑے بچے اس کے ساتھ 14-15 سال کے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

کرن کا لمبا قد اسے اپنی ماں شویتلانا سنگھ سے وراثت میں ملا ہے۔ شویتلانا کا قد سات فٹ چار انچ ہے۔

بک آف ورلڈ ریکارڈ اور گینیز بک میں کرن کا نام پہلے ہی درج ہے۔

غیر معمولی طور پر زیادہ لمبے لوگ بحث میں بھلے ہی رہتے ہیں، لیکن ان میں ہارمونز کے عدم توازن اور کئی بیماریوں کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KAMRAN ZUBERI
Image caption کرن کو ان کا قد اپنی ماں سے ملا ہے جن کا قد سات فٹ چار انچ ہے

شویتلانا سنگھ اور ان کے بیٹے کرن کو بھی خطرناک بیماریوں سے بچنے کے لیے پرہیز اور کیلشیم، وٹامنز وغیرہ کا مکمل خیال رکھنا پڑتا ہے۔

بہرحال 26 سالہ شویتلانا نے اپنی غیر معمولی لمبائی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے، لیکن اکثر جب وہ کسی غفلت سے بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں تو سوچتی ہیں کہ کاش ان کی لمبائی بھی عام لوگوں جیسی ہوتی۔

میرٹھ کے لالہ لاجپت رائے میموریل میڈیکل کالج میں اینڈوكرائنولوجي اینڈ ہیومن میٹابولزم شعبے کے صدر اور پروفیسر ڈاکٹر تنگوير سنگھ آریہ کے مطابق:

تصویر کے کاپی رائٹ KAMRAN ZUBERI
Image caption کرن سکول کے لیے باسکٹ بال کھیلتا ہے اور ڈاکٹر بننا چاہتا ہے

’غیر معمولی لمبے لوگوں میں پٹیوٹری گلینڈ میں ٹیومر کے معاملے سامنے آتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جسم کے کسی دوسرے حصے میں ٹیومر ہونے سے بھی اس گلینڈ کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہے جو کینسر کا سبب ہو سکتے ہیں۔‘

کرن ڈاکٹر بننا چاہتا ہے جس سے وہ اپنی ماں اور خود کی لمبائی سے منسلک بیماریوں کا علاج کر سکے۔

لمبائی کا فائدہ اٹھانے کے لیے وہ باسکٹ بال بھی کھیلنا چاہتا ہے جس میں وہ اب تک سکول کے لیے ٹرافی جیت کر لاتا رہا ہے۔

کرن کے والد سنجے سنگھ کہتے ہیں: ’کرن اپنی عمر سے کہیں زیادہ سنجیدہ رہنے لگا ہے۔ جس دور سے وہ گزر رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار نہ ہو جائے۔‘

اسی بارے میں