کابل:گینگ ریپ کے پانچ مجرموں کو پھانسی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس مقدمے میں افغان عوام اور ذرائع ابلاغ کی دلچسپی غیرمعمولی رہی

حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ اہلکار کی اپیل کے باوجود افغانستان میں چار خواتین سے گینگ ریپ کے پانچ مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

افغان ڈپٹی اٹارنی جنرل نےدارالحکومت کابل کی پل چرخی جیل میں بدھ کو سزائے موت پر عملدرآمد کی تصدیق کی ہے۔

ریپ کا یہ واقعہ گذشتہ برس اگست میں کابل کے نواحی علاقے پغمان میں پیش آیا تھا اور اس کے خلاف ملک میں مظاہرے بھی ہوئے تھے جن میں اس کے ذمہ دار افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

افغانستان کے سبکدوش ہونے والے صدر حامد کرزئی نے عہدہ چھوڑنے سے قبل گذشتہ ہفتے ان افراد کے ڈیتھ وارنٹس پر دستخط کیے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے دفتر کے سربراہ سمیت اس مقصد کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی سے اپیل کی تھی کہ وہ ان مجرمان کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوائیں۔

اقوامِ متحدہ کے اعلی ٰ اہلکار نے اس سزا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقدمے میں افغان قانونی طریقۂ کار کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اس سزا پر عملدرآمد متاثرین یا ملزمان دونوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ اس مقدمے میں ثبوتوں کی کمی اور مبینہ طور پر زبردستی کروائے جانے والے اقبالِ جرم جیسے عوامل اسے متنازع بناتے ہیں جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں سیاسی مداخلت کا عنصر واضح رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے صدر اشرف غنی سے اس مقدمے کے غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کی اپیل بھی کی تھی۔

افغانستان میں جنسی زیادتی کے واقعات اکثر پیش آتے ہیں لیکن اس مقدمے میں عوام اور ذرائع ابلاغ کی دلچسپی غیرمعمولی رہی۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں پولیس کی وردیوں میں ملبوس مجرمان نے پغمان کے نزدیک گاڑیوں کے قافلے کو روک کر ان چار خواتین کو اتارا اور ان سے جنسی زیادتی کی۔ ان چار میں سے ایک خاتون حملے کے وقت حاملہ بھی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سات افراد ملوث تھے جن میں سے سب پر مسلح ڈکیتی اور پانچ پر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام بھی ثابت ہوا تھا۔

اسی بارے میں