انٹرنیٹ بھی انسانی حق ہے: مارک ذوکر برگ

مارک ذوکر برگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارک ذوکر برگ انڈیا کے دو دن کے دورے پر ہیں

سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک ذوكر برگ نے انٹرنیٹ کو بھی انسانی حق سے تعبیر کیا ہے۔

فیس بک کے مالک ذوکر برگ دو دن کے بھارت کے دورے پر ہیں اور امید ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ فیس بک کے ایک سروے میں پایا گیا ہے کہ 69 فیصد بھارتی لوگ یہ جانتے ہی نہیں ہے کہ انٹرنیٹ ان کی مدد کیسے کر سکتا ہے۔

جمعرات کو انٹرنیٹ کے پھیلاؤ سے متعلق بھارت میں ہونے والی ایک کانفرنس سے اپنے خطاب میں ذوكربرگ نے کہا کہ’ فیس بک علاقائی زبانوں پر کام کر رہا ہے۔ یہ ایشیاء اور خاص طور بھارت میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے لیے ضروری ہے۔‘

انہوں نے اپنے خطاب میں زراعت اور سماجی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے مقامی زبانوں میں موبائل ایپس بنانے کے لیے ایک مقابلہ شروع کرنے کی بات کی اور اس کے لیے دس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنی ملاقات میں ذوکر برگ جن پانچ باتوں پر توجہ دیں گے وہ یہ ہیں۔

1۔ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ میں شراکت

سوا ارب کی آبادی والے ملک بھارت میں اب تک صرف ساڑھے 12 فیصد لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے اپنے ویژن میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کو اہمیت دی ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ فیس بک کے لیے بھی اچھی بات ہو گی کیونکہ اسے نئے صارفین ملیں گے۔

2۔ تعلیم اور ای گورننس

کچھ ماہ قبل اپنے بھارتی دورہ کے دوران فیس بک کی سی ای او شیرل سینڈبرگ نے کہا تھا کہ کمپنی کے لیے بھارت میں زبردست امکانات ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ فیس بک تعلیم، صحت اور دیگر کئی شعبوں میں حکومت کے ساتھ مل کر تعمیری کام کر سکتا ہے۔ ذوكر برگ اس ایجنڈے کو بھارت میں ایک بار پھر سے دہرا سکتے ہیں۔

3۔ ٹیکس کے نظام میں مزید شفّافیت

بھارت میں بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے کاروبار کرنا آسان کام نہیں ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ’آسان تجارتی انتظامات‘ والے ممالک کی فہرست میں بھارت 134 ویں نمبر پر ہے۔

نوکیا اور ووڈا جیسی فون کمپنیاں بھارتی ٹیکس نظام سے پریشان نظر آئی ہیں اور حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے فیس بک پر بھی ’مناسب ٹیکس‘ جمع نا کرنے پر سوال اٹھائے ہیں۔

امکان ہے کہ مودی سے اپنی ملاقات میں وہ ٹیکس نظام کو مزید شففاف بنانے کا مطالبہ کریں گے۔

4۔ فیس بک سے خفیہ معلومات کا مطالبہ

سنہ 2013 میں بھارت نے فیس بک سے 6843 مرتبہ معلومات طلب کی ہیں جو کئی بڑے ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

گوگل سے بھی سب سے زیادہ معلومات مانگنے والے ممالک کی فہرست میں بھارت پانچویں نمبر پر ہے۔

تکنیکی شعبے میں حکومت کے عمل دخل کا اثر علاقے کی ترقی پر پڑ سکتا ہے۔ ذوكر برگ اس سے متعلق بھی اپنے خیالات وزیراعظم مودی کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔

5۔ فیس بک پر لائیک یا کمینٹ کی سزا

گزشتہ کئی ماہ میں بھارتی آئی ٹی قانون کے تحت کئی فیس بک صارفین کو مبینہ ’قابل اعتراض کمینٹ‘ کرنے یا اسے لائک کرنے پر جیل کی ہوا کھانی پڑی ہے۔

اگرچہ قابل اعتراض کیا ہے، اس کی تعریف واضح نہیں ہے۔ ذوكر برگ اس بارے میں بھی مودی سے بات کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں