کیلاش ستیارتھی کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ستیارتھی نوبیل امن انعام حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ہیں۔ مہاتما گاندھی تک اس اعزاز سے محروم رہے تھے

بھارت میں بچوں کے حقوق کا اگر ذکر ہو تو امکان ہے کہ ’بچپن بچاؤ تحریک‘ کا ذکر بھی آہی جائے گا۔

یہ غیر سرکاری ادارہ کیلاش ستیارتھی نے قائم کیا تھا اور اسے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں میں سرِفہرست مانا جاتا ہے۔

ستیارتھی نوبیل امن انعام حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ہیں۔ مہاتما گاندھی تک اس اعزاز سے محروم رہے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’تمام ہندوستانیوں کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے، یہ ان بچوں کے لیے بھی بڑا اعزاز ہے جو آج بھی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، میں اس اعزاز کو دنیا میں محرومی کا شکار بچوں کی نذر کرتا ہوں۔‘

ستیارتھی سنہ 1954 میں مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے تھے اور پیشے کے لحاظ سے وہ الیکٹریکل انجینیئر تھے لیکن 26 سال کی عمر میں ہی انھوں نے اپنی نوکری چھوڑ کر بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔

ان کا ادارہ اب تک ہزاروں بچوں کو کہیں غلامی تو کہیں استحصال سے بچا چکا ہے۔ ان کے کام کا بنیادی محور وہ بچے ہیں جن سے زبردستی کام کروا کر ان کا بچپن چھین لیا جاتا ہے۔

فی الحال وہ ’گلوبل مارچ اگینسٹ چائلڈ لیبر‘ کے سربراہ بھی ہیں۔

اگرچہ ستیارتھی کا نام نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن بھارت میں نہ اس کا کوئی خاص ذکر تھا اور شاید نہ ہی کسی کو یہ امید تھی کہ نوبیل کمیٹی ستیارتھی کو اس اعزاز سے نواز سکتی ہے۔

بچپن بچاؤ تحریک کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ادارہ بچوں کو آزاد کر کے ان کی تعلیم جاری رکھنے اور انھیں دوبارہ بسانے کا انتظام کرتا ہے۔

ستیارتھی کی تحریک نے 80 کے عشرے میں انڈیا میں بچوں سے مزدوری کروائے جانے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے پہل کی تھی۔ یہ ادارہ بین الاقوامی سطح پر ان چیزوں کے بائیکاٹ کے لیے بھی مہم چلاتا ہے جو بچوں کا استحصال کر کے بنوائی جاتی ہیں۔

ستیارتھی کے مطابق جن بچوں سے مزدوری کروائی جاتی ہے ان میں سے تقریباً 70 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہوتا ہے، لہٰذا 2001 میں ادارے نے ایک نئی سکیم شروع کی جس کے تحت دیہات میں ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور ان کی تعلیم اور گزر بسر کا مناسب انتظام ہو۔

نوبیل امن انعام 1979 میں مدر ٹریسا کو دیا گیا تھا جنھوں نے اپنی زندگی بھارت میں کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں اور بے گھر افراد کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔

اسی بارے میں