اس قتل عام کا ذمے دار کون ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں کنٹرول لائن پر دس روزہ گولہ باری کے سبب ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں

بھارت کے ایک سرکردہ اخبار نے گذشتہ دنوں بڑی مسرت کے ساتھ سرخی لگائی کہ بھارت نے کنٹرول لائن پر پاکستان کو منھ توڑ جواب دیا ہے۔

اخبار نے اپنی خبر میں لکھا کہ بھارتی فوج کی جوابی کارروائی میں سر حد کے اس جانب بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اخبار کے مطابق بھارتی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ پاکستانی فوج شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کر کے دکھا رہی ہے۔

پچھلے دس دنوں سے بھارت اور پاکستان کنٹرول لائن پر آباد غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دونوں جانب کم از کم 20 افراد مارے جا چکے ہیں اور 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں۔

خوفناک گولہ باری کے درمیان سرحدی گاؤں سے ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دونوں ملکوں کی افواج ان سرحدی باشندوں کو تلاش کر رہی ہوں۔

دونوں جانب سے دندان شکن جواب دینے کی باتیں ہو رہیں۔ یعنی یہ کہ آج انھوں نے دوسری جانب سے زیادہ انسانوں کو مار گرایا ہے، ان سے زیادہ بستیاں ویران کی ہیں، ان سے زیادہ لوگوں کو اپاہج اور معذور بنا دیا ہے۔

کبھی کبھی کچھ فوجی بھی مارے جاتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے یہ فوجی بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ ہی رہے ہوتے ہیں۔ ہم میں کسی کو نہیں معلوم ہوتا کہ سرحد سے دور بہار، اتر پردش یا تمل ناڈو کے کسی گاؤں یا کسی قصبے میں کسی کی دنیا کیسے اجڑ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان واقع کنٹرول لائن دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے

سرحد پر بسنے والوں کو ہر برس دو تین بار موت کا سامنا ہوتا ہے۔ منھ توڑ جواب دینے کا سلسلہ شررع ہوتا ہے۔ کئی بے نام شہری مارے جاتے ہیں۔ ان کی موت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان واقع کنٹرول لائن دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے۔ اس لائن کے دونوں جانب لاکھوں لوگ آباد ہیں۔ یہ پورا خطہ طویل عرصے سے جنگ کی سی حالت میں ہے۔ لاکھوں شہری انتہائی بے بسی اور خطرناک حالات میں زندہ رہنے کا گر سیکھ گئے ہیں۔ زندگی پوری طرح بے یقینی کی گرفت میں ہے۔

کنٹرول لائن پر تازہ ترین ٹکراؤ سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ فائرنگ کیوں ہوتی ہے؟ اسے کون شروع کرتا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ اور اب تک اس طرح سینکڑوں تصادموں اور ہزاروں ہلاکتوں سے دونوں ملکوں نے کیا حاصل کیا ہے؟

لیکن جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ سرحدی علاقوں میں جو لوگ مارے گئے ان کا ذمے دار کون ہے؟ بے قصور اور غیر مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دونوں ملکوں کی افواج کے پاس کیا جواب اور کیا جوا ز ہے؟

آخر ان شہریوں کے قتل عام کا ذمے دار کون ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دونوں جانب کم از کم 20 افراد مارے جا چکے ہیں اور 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں

اسی بارے میں