’اگر بات نہیں کرنی تو مکمل جنگ کرو‘

Image caption آرنیہ سیکٹر کے نوجیوتی سکول کے پرنسپل نے گولے دکھاتے ہوئے کہا: ’اندازہ کریں کہ اگر یہاں بچے ہوتے تو ہم سب کا کیا ہوتا۔‘

’دہلی یا لاہور سے ایک دوسرے کو دھمکی دینے والوں کو کیا معلوم کہ جب گولہ گرتا ہے تو اس سے کتنی زندگیاں برباد ہوتی ہیں۔ پھر اچانک سے اقوام متحدہ کا بیان آتا ہے اور یہ لوگ فائرنگ بند کرتے ہیں۔ میں مودی صاحب اور میاں صاحب سے کہتا ہوں کہ اگر جنگ نہیں کرنی تو مذاکرات کرو۔‘

یہ اُس مختصر تقریر کا حصہ ہے جو سامبا سیکٹر کے کالی بڑی گاوں میں سماجی رضاکار پروین سنگھ کٹال نے گولہ باری سے متاثرہ باشندوں کے سامنے کی۔

کالی بڑی کے سکول کی طرح جموں کے مضافات میں ایسے متعدد سکول اور کالج ہیں جہاں تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہیں کیونکہ یہاں ہزاروں متاثرین اپنے اہل خانہ کے ہمراہ عارضی طور مقیم ہیں۔

کشمیر کے سامبا، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں ہند پاک سرحدی سیکٹروں میں دس روزہ فوجی کشیدگی کے بعد گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے۔

ابھی تک بھارتی کنٹرول والےجموں میں پانچ خواتین سمیت دس افراد مارے گئے ہیں لیکن سرحدی بستیوں سے نکلنے والے ہزاروں لوگ اب بھی اپنے گھروں یا کھیتوں میں واپس جانے سے ڈرتے ہیں۔

Image caption کشمیر وادی میں 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول پہاڑوں سے گھری ہے جبکہ اس کے برعکس جموں کی سرحدیں میدانی ہیں

پروین سنگھ کہتے ہیں کہ اگر بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ زور آزمائی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سرحدی بستیوں کو نشانہ بنانا غیرانسانی ہے۔

انھوں نے کہا: ’نواز شریف صاحب یا مودی صاحب بہادری دکھانا چاہتے ہیں تو ایک دوسرے کے محلات پر بمباری کا حکم دیں، شہریوں کو نشانہ بنا کر یہ لوگ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت شروع ہوجائے، اس سے سب کا بھلا ہوگا، کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا۔‘

واضح رہے کہ سیاسی سطح پر جنگی جنون کے مظاہرے سے جموں کی سرحدی آبادی متاثر نہیں ہوئی ہے تاہم دس روزہ کشیدگی کے دوران سامبا سیکٹر کا آرنیہ گاؤں سب سے زیادہ متاثر رہا۔

یہاں کے شہری کلدیپ راج کہتے ہیں: ’دس دن میں یہاں پانچ سو بارودی گولے گرے۔ لیکن میرے گاؤں میں ایک بھی لڑکا ایسا نہیں جو چاہتا ہو کہ جنگ ہو۔ دونوں ملکوں کو سمجھنا چاہیے کہ اگر لوگ امن چاہتے ہیں تو کس کو خوش کرنے کے لیے یہ جنگی ماحول کیوں گرماتے ہیں؟‘

Image caption سامبا کے فوجی اومکار ناتھ 20 کا کہنا ہے کہ عام حالات میں ہم لوگ خوش رہتے ہیں

جموں کے ہسپتال میں زیرعلاج جیوتی دیوی کے خاندان کے چار افراد گولہ باری کے دوران مارے گئے۔ وہ کہتی ہیں: ’میں اور لاشیں نہیں دیکھ سکتی۔ بند کرو یہ سب۔ بات چیت کرو۔ مسئلہ حل کرو۔‘

اسی ہسپتال میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس یا بی ایس ایف کے جوان عرفان خان کا کہنا ہے: ’ہم لوگ تو وہی کرتے ہیں جو افسران کہتے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ بات چیت ہی ہونی چاہیے۔ اسی سے مسئلہ حل ہوگا۔ اگر ان لوگوں کو بات نہیں کرنی تو پھر مکمل جنگ ہونی چاہیے۔‘

جموں خطے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 200 کلومیٹر کی سرحد ہے جسے پاکستان ’ورکنگ باونڈری‘ کہتا ہے کیونکہ اس کے جواز پر اسے اعتراض ہے۔ کشمیر وادی میں 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول پہاڑوں سے گھری ہے۔

Image caption سماجی رضاکار پروین سنگھ کٹال کا کہنا ہے: ’میں مودی صاحب اور میاں صاحب سے کہتا ہوں کہ اگر جنگ نہیں کرنی تو مذاکرات کرو۔‘

اس کے برعکس جموں کی سرحدیں میدانی ہیں۔ یہاں وسیع، چٹیل میدان ہیں اور آر پار کی بستیاں دونوں جانب کی افواج کی بندوقوں کی زد میں ہیں۔

سامبا کے اومکار ناتھ 20 سال تک بھارتی فوج میں رہے۔ ان کا کہنا ہے: ’عام حالات میں ہم لوگ خوش رہتے ہیں۔ پاکستانی افواج کے ساتھ ہنسی مذاق بھی ہوتا ہے، اور مٹھائیاں بھی تقسیم ہوتی ہیں۔ لیکن ایک بار گولہ باری شروع ہوگئی تو پھر ایک جنون سوار ہوجاتا ہے۔ پھر اچانک سے حکم آتا ہے کہ رُک جاو۔ یہ سب بہت ہوگیا۔ اس کا شکار عام شہری بن رہا ہے۔ دونوں ملکوں کو اب مذاکرات کرکے مل جل کر ترقی کرنی چاہیے۔‘

قابل ذکر ہے گذشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے دونوں ملکوں سے سرحدوں پر امن قائم رکھنے کی اپیل کی تو حالات میں بہتری واقع ہوئی۔

Image caption جموں کے ہسپتال میں زیرعلاج جیوتی دیوی کے خاندان کے چار افراد گولہ باری کے دوران مارے گئے

لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہریانہ اور مہاراشٹرا میں مقامی انتخابی ریلیوں سے خطاب کے دوران پاکستان کو سبق سکھانے کا دم بھرتے ہوئے کہا: ’ہم نے کرارا جواب دیا اور پاکستان کو منھ کی کھانی پڑی۔‘

اُدھر پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی بھارتی جارحیت کا جواب نیوکلیائی ہتھیاروں سے دینے کی بات کی ہے۔

لیکن دونوں ملکوں کے سخت لب و لہجہ کے باوجود بمباری اور گولہ باری کے متاثرین باہمی مذاکرات کو ہی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔

آرنیہ سیکٹر کے نوجیوتی سکول پر بھی دو بارودی گولے گرے ہیں۔ اس سکول کے پرنسپل ایم اے بھٹی نے گولے دکھاتے ہوئے بتایا: ’اندازہ کریں کہ اگر یہاں بچے ہوتے تو ہم سب کا کیا ہوتا۔‘

اسی بارے میں