طوفان کا نام ہُد ہُد کیسے پڑا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں طوفانوں کو نام دینے کی تاریخ بہت نئی ہے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ’طوفان ہُد ہُد‘ جو آج بھارت سے ٹکرائے گا دراصل عمان میں پیدا ہوا تھا۔

ہم اس طوفان کے نام کے بارے میں بات کر رہے ہیں نہ کہ طوفان کے بارے میں۔

’ہُد ہُد‘ عربی میں ایک پرندے کا نام ہے۔

سنہ 1953 سے بحر اوقيانُوس میں آنے والے طوفانوں کو نام دیے جاتے ہیں۔ طوفانوں کو نام دینے کی شروعات میامی میں نیشنل ہریکین سینٹر کی جو اب تک قائم ہے۔

لیکن جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں طوفانوں کو نام دینے کی تاریخ بہت نئی ہے۔

لیکن شمالی بحر ہند میں طوفانوں کو نام دینا متنازع ہے۔ اسی لیے یہاں سے اٹھنے والوں طوفانوں کو نام نہیں دیے جاتے۔لیکن طوفانوں کو نام دینا متنازع کیوں ہے؟

بھارت کے سائیکلون وارننگ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ایم مہاپترا کا کہنا ہے کہ ’بحر ہند کا علاقہ لسانی طور پر اتنا مختلف ہے کہ نام رکھنے کے لیے اس بات کا ِخاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کسی کی برا نہ لگ جائے۔‘

لیکن 2004 میں اپنے پسندیدہ ناموں پر طوفانوں کے نام رکھنے کا اتفاق ہو گیا۔

آٹھ ممالک اکٹھے بیٹھے جن میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ، برما، عمان، سری لنکا اور تھائی لینڈ شامل تھے۔

ان ممالک نے 64 ناموں کی فہرست تیار کی یعنی آٹھ نام فی ملک جو طوفانوں کو دیے جاسکیں۔ ناموں کی یہ فہرست ملکوں کے حروف تہجی کے مطابق ہیں۔

اس خطے میں آخری طوفان رواں سال جون میں آیا تھا جس کا نام ننوک رکھا گیا۔ یہ نام برما کا تجویز کردہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس خطے میں اگلا طوفان جب آئے گا تو اس کا نام پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ نام رکھا جائے گا۔ نومبر 2012 کو آنے والے طوفان کا نام پاکستان کا تجویز کردہ تھا جو تھا ’نیلم‘۔

طوفانوں کو دیے جانے والے نام حکومت کے علاوہ عوام بھی تجویز کرسکتی ہے۔ جیسے بھارت میں لوگوں سے ناموں کی تجویز مانگی گئی۔ لیکن ان ناموں کے لیے شرط یہ تھی کہ وہ چھوٹے ہوں، فوری طور پر سمجھ آ جائیں، براڈکاسٹنگ میں نام لینا آسان ہو، ثقافتی طور پر متنازع نہ ہو۔

پچھلے طوفان کا نام میانمار یعنی برما کی جانب سے دیے گئے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس بار حروف تہجی میں عمان کی باری ہے۔ اسی لیے بھارت سے ٹکرانے والے طوفان کا نام ’ہُد ہُد‘ ہے۔

اس خطے میں اگلا طوفان جب آئے گا تو اس کا نام پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ نام رکھا جائے گا۔ نومبر 2012 کو آنے والے طوفان کا نام پاکستان کا تجویز کردہ تھا جو تھا ’نیلم‘۔

بھارت کے سائیکلون وارننگ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ایم مہاپترا کا کہنا ہے کہ یہ نام جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ ’ہُد ہُد‘ ناموں کی فہرست میں 34واں نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بھی ناموں کی فہرست میں 30 نام باقی ہیں۔

سائیکلون ماہرین ہر سال ملتے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو مزید ناموں کا اضافہ کردیا جائے گا۔

اگرچہ آٹھ ممالک بیٹھے اور 64 ناموں کی فہرست تیار کی لیکن ان ناموں پر تنازع کھڑا ہوا۔ سنہ 2013 میں آنے والے طوفان کا نام مہاسن رکھا گیا جو سری لنکا کا تجویز کردہ تھا۔ لیکن جلد ہی طوفان کا نام تبدیل کر کے ویارو رکھ دیا گیا۔ سری لنکا میں قوم پرستوں نے احتجاج کیا کہ مہاسن اس بادشاہ کا نام تھا جو اس جزیرے میں امن اور ترقی لایا۔ اس لیے طوفان کا نام تبدیل کیا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفانوں کے نام رکھنا ضروری ہے۔ نام رکھنے کے باعث لوگوں اور میڈیا کو سہولت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں