محمد رفیع کے بیٹے سیاست کے میدان میں

Image caption لوگوں کا کہنا ہے کہ شاہد رفیع اپنے والد کی طرح نیک انسان ہیں

معروف گلوکار محمد رفیع کے 52 سالہ بیٹے شاہد رفیع بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کا نیا سیاسی چہرہ ہیں۔

وہ جنوبی ممبئی کے ممبا دیوی انتخابی حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار اتل شاہ کے خلاف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمين (اے آئی ایم آئی ایم) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

حیدرآباد کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین شاہد رفیع جیسے نئے چہروں اور امیدواروں کے بھروسے پر مہاراشٹر اسمبلی میں آغاز کرنا چاہتی ہے۔

بی بی سی کے زبیر احمد بتاتے ہیں کہ وہ جنوبی ممبئی کے مسلم علاقے بھنڈی بازار میں شاہد رفیع کے انتخابی دفتر گئے تھے جہاں ان کے انتخابی نشان پتنگ کے پوسٹر جابجا نظر آ رہے تھے۔

باہر ایک پروموشن گاڑی کے چاروں طرف شاہد رفیع کی تصویریں لگی تھیں ساتھ ہی ان کے والد اور معروف گلوکار محمد رفیع کی تصویر بھی نظر آ رہی تھی۔

جلوس کے بعد شاہد رفیع سے انھوں نے سیاست میں آنے کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے: ’لوگوں کی اسی طرح خدمت کرنی ہے جیسی ابّا کیا کرتے تھے۔‘

Image caption 52 سالہ شاہد رفیع ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجر ہیں

لیکن ہر لیڈر انتخابات سے قبل لوگوں کی خدمت کا دعویٰ کرتا ہے، اس پر ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجر شاہد رفیع نے کہا: ’میں اس شخص کا بیٹا ہوں جو اپنی زبان پر سب کام کیا کرتے تھے۔ تو میں ان کا نام گرنے نہیں دوں گا۔‘

شاہد رفیع نے سیاست کے بارے میں کہا: ’بڑی محنت ہے۔ تھک بھی جاتا ہوں، لیکن مزہ بھی آ رہا ہے کیونکہ یہ نیا تجربہ ہے۔‘

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ شاہد رفیع اپنے والد کی طرح نیک انسان ہیں، لیکن پارٹی غلط منتخب کر لی ہے۔

اس پر انھوں نے کہا: ’وعدے تو ہر پارٹی کرتی ہے لیکن مجلس کام کرتی ہے۔ اسی لیے میں نے اس پارٹی کا انتخاب کیا۔ ویسے بھی مخالفین اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔‘

Image caption محمد رفیع بھارت کے معروف ترین گلوکاروں میں شامل ہیں

اپنے انتخابی حلقے کے ایک اہم مسئلے کے بارے میں پوچھے جانے پر شاہد کہنے لگے کہ مسئلے متعدد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جیت کر آؤں گا تو ترجیحی بنیادوں پر تمام مسائل پر کام کروں گا۔

اس علاقے میں پرانی عمارتوں کے گرنے، ٹریفک جام اور پارکنگ کی کمی جیسے مسائل ہیں۔ ان کے مخالف اتل شاہ انھیں حل کرنے کے وعدے پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

شاہد کا خیال ہے کہ ووٹ انھیں ان کے ابا کے نام پر ملیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ’ابا سے لوگ عقیدت رکھتے ہیں۔ ان سے لوگوں کو محبت ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ اس سے بہت فرق پڑے گا۔‘

شاہد رفیع کا کہنا ہے کہ ان کی جیت مسلمانوں کے ووٹوں کی وجہ سے نہیں ہو گی بلکہ ان کے ابا کو چاہنے والے ہر فرقہ کے لوگوں کی وجہ سے ہوگي۔

تاہم ان کے مطابق: ’ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘

اسی بارے میں