’ہد ہد‘ کے متاثرین کی بحالی کے لیے امدادی ٹیمیں تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ JAMIE KEN NEDY
Image caption تین لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے

بھارت کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے والے سمندری طوفان ہدہد سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ٹیمیں تعینات کرکے امدادی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں تقریباً چار لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

بھارتی حکام مشرقی ریاست آندھر پردیش اور اڑیسہ میں اس طوفان سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ اس میں کم از کم چھ افراد کے ہلاک ہوجانے کی خبریں ہیں۔

طوفان سے بڑے پیمانے پر گھر منہدم ہوئے، پیڑ گرے، بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا، سڑکوں پر رکاوٹیں آ گئیں اور دونوں ریاستوں میں فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

ریاست اڑیسہ میں مزید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کی وجہ سے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وشاكھاپٹنم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے اس طوفان میں 205 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چلتی رہیں

اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقے میں امداد کے لیے 24 ریلیف ٹیم اور 155 طبی ٹیموں کے علاوہ بحریہ کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 223 کیمپوں میں لاکھوں لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

آندھر پردیش کے وزیر اعلی چندر بابو نائڈو نے کہا کہ طوفان سے پہلے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچائے جانے کے سبب بڑے پیمانے پر زندگیاں بچیں ہیں لیکن مکانوں اور فصلوں کو ساحلی علاقوں میں زبردست نقصان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان ہدہد سنیچر کی دوپہر بھارت کے مشرقی ساحلوں سے ٹکرا یا تھا۔

آندھر پردیش میں اس کا سب سے زیادہ زور نظر آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ تیار ہے

وشاكھاپٹنم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے اس طوفان میں 205 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چلتی رہیں اور اس کے ساتھ بارش بھی ہوتی رہی۔

بھارت میں قومی آفات سے نمٹنے کے محکمے این ڈی آر ایف کے مطابق آندھر پردیش کے علاقے شريكاكلم اور وشاكھاپٹنم میں درخت کے نیچے دبنے سے تین افراد مارے گئے ہیں۔

بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان بہت تباہی پھیلا سکتا ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے بعض علاقوں میں اس کے پیش نظر سکول بند کر دیا گيا ہے۔

ریاست اڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ مزید تین لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ کو چوکس کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اڑیسہ میں ابھی صرف تیز ہوائیں چل رہی ہیں

خصوصی رلیف کمشنر پردیپ کمار مہا پاترہ کا کہنا ہے کہ اس طوفان کا سامنا کرنے کے لیے حکام اور انتظامیہ پوری طرح سے تیار ہیں۔

1999 میں اُڑیسہ میں آنے والے ’سُپر سائیکلون‘ سے دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گذشتہ اکتوبر میں اڑیسہ اور آندھرا پردیش سے گزرنے والے پہلِن طوفان کے پیشِ نظر پانچ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

بھارت کے شمالی ساحل اور بنگلہ دیش میں اپریل سے نومبر کے درمیان سمندری طوفان آتے رہتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

اس طوفان کی زد میں جو ریاستیں آنے والی ہیں وہاں امدادی ٹیموں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں