افغانستان: حقانی نیٹ ورک کے دو سینیئر رہنما گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ انس حقانی کا نیٹ کی حکمتِ عملی تیار کرنے اور اس کے لیے چندہ جمع کرنے میں اہم کردار تھا

افغانستان میں حکام کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز نے شدت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے دو سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ گروپ افغان اور نیٹو فورسز پر ہونے والے بہت سے حملوں میں ملوث رہا ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدّین حقانی کے بیٹے انس حقانی اور کمانڈر حافظ رشید کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ کہا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے اکثر رہنما پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں پاکستانی فوج کی طرف سے حالیہ کارروائیوں کی وجہ سے وہ افغانستان کی جانب بھاگ نکلے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے عمر رسیدہ بانی رہنما جلال الدّین حقانی اب بھی پاکستان میں ہیں۔

افغان انٹیلیجینس ادارے این ڈی ایس کے حکام کا کہنا ہے کہ انس حقانی اور کمانڈر حافظ رشید کو منگل کو رات گئے افغانستان میں گرفتار کیا گیا۔

انٹیلیجینس حکام کا کہنا ہے کہ جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی نیٹ ورک کی حکمتِ عملی تیار کرنے اور اس کے لیے چندہ جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔

این ڈی ایس کے ترجمان حسیب صدیقی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ان دو رہنماؤں کی گرفتاری کا نیٹ ورک پر براہِ راست اثر پڑے گا۔‘

گذشتہ سال جلال الدّین حقانی کے ایک اور بیٹے کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

وہ گروپ کےلیے چندہ جمع کرنے والے بڑے رہنما تھے۔

القاعدہ اور طالبان سے منسلک حقانی نیٹ ورک نے سنہ 2001 میں افغان طالبان کے اقتدار سے چلے جانے کے بعد افغانستان میں بیرونی اور افغان فورسز پر کئی بڑے حملوں کیے ہیں۔

اسی بارے میں