بھارتی سیاست مودی کی گرفت میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگر بی جے پی جیت گئی تو وزیر اعظم مودی کی گرفت پارٹی اور حکومت پر قطعی طور پر مکمل ہو جائے گی

بھارت کی دو ریاستوں ہریانہ اور مہاراشٹر میں بدھ کے روز اسمبلی انتخابا ت منعقد ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ریاستی اسمبلی کے انتخابات مقامی رہنماؤں کے نام پر نہیں بلکہ وزیر اعظم کے نام پر لڑے گئے۔

اسے وزیر اعظم نریندرمودی کی زبردست سیاسی حکمت عملی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

اپریل مئی کے لوک سبھا کے انتخابات کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب یہ معلوم ہو سکے گا کہ نریندر مودی کی مقبولیت کی لہر ابھی باقی ہے یا ختم ہو چکی ہے۔

لیکن مودی کا اعتماد اس وقت عروج پر ہے۔ مہاراشٹر میں انھوں نے اپنے سب سے قریبی اتحادی شیو سینا سے 25 برس پرانا اتحاد توڑ دیا اور بی بے پی نے ریاست میں تن تنہا انتخاب لڑا۔

دوسری جانب ہریانہ میں بی جے پی تنظیمی طور پر نسبتاً کمزور ہے لیکن وہاں بھی اس نے ماضی کے مقابلے اس بار کسی بھی جماعت سے اتحاد کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ بی جے پی نے یہاں بھی انتخاب اکیلے لڑاہے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دونوں ریاستوں میں بی جے پی نے انتخاب مقامی رہنماؤں کی کارکردگی اور ان کے نام پر نہیں بلکہ مودی کے نام پر لڑا ہے۔

مودی نے ان دونوں ریاستوں میں 37 انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔

انتخابات کے نتائج تو اتوار کو آئیں گے لیکن تمام جائزے اورانتخابی سروے دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی جیت کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔

گذشتہ لوک سبھا کے انتخابات میں تاریخ ساز شکست کے بعد کانگریس اپنے تاریخی زوال کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پارٹی اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ اسے حزب اختلاف تک کادرجہ نہ مل سکا۔ علاقائی جماعتیں رفتہ رفتہ بھارت کی سیاست میں اپنی معنویت کھو رہی ہیں۔

اگر بی جے پی جیت گئی تو وزیر اعظم مودی کی گرفت پارٹی اور حکومت پر قطعی طور پر مکمل ہو جائے گی، اور وہ ایک شخصی طرز کی حکومت چلا رہے ہوں گے جس میں فیصلہ سازی کا سارا اختیار انھی میں مرکوز ہو گا۔

Image caption گذشتہ لوک سبھا کے انتخابات میں تاریخ ساز شکست کے بعد کانگریس اپنے تاریخی زوال کی طرف بڑھ رہی ہے

مودی کا شخصی طرز حکومت پہلے سے ہی عیاں ہونے لگا ہے۔ ریاست میں مقامی رہنماؤں اور وزرائے اعلیٰ کے انتخاب سے لے کر اعلیٰ افسروں کی تقرری تک سبھی فیصلے وزیر اعظم ہی کرتے ہیں۔

حکومت پر ان کی گرفت بہت سخت اور پارٹی ان کی کمان میں ہے۔ ریاستی اسمبلی کے انتحابات میں اگر ان کی پارٹی فتح یاب ہوتی ہے تو آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی وہ تنطیمیں بھی اور زیادہ حاشیے پر چلی جائین گی جو وقتاً قوقتاً مودی کے لیے مشکلات پیدا کرتی رہی ہیں۔ مودی کو اب ان کی ضرورت نہیں ہے۔

گذشتہ لوک سبھا کے انتخابات میں تاریخ ساز شکست کے بعد کانگریس اپنے تاریخی زوال کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پارٹی اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ اسے حزب اختلاف تک کادرجہ نہ مل سکا۔ علاقائی جماعتیں رفتہ رفتہ بھارت کی سیاست میں اپنی معنویت کھو رہی ہیں۔

ان حالات میں مودی ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں جنہیں آنے والے دنوں میں کسی طرح کے سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں ہو گا۔

تجزیہ کاروں کا خیا ل ہے کہ مودی تنقید اور مخالفت پسند نہیں کرتے اور ملک کی فضا پوری طرح مودی کے سیاسی تصورات کے موافق ہے۔

اسی بارے میں