بھارت کا ایک اور ’بلند ترین‘ تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں ممالک کے درمیان ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں مختلف مقامات پر سرحدی تنازعات بہت پرانے ہیں

بھارت نے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک کے دور دراز شمال مشرقی علاقوں میں چین اور بھارت کی درمیانی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک پہاڑی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے۔

اس منصوبے پر ساڑھے 6 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہو گی جس کے تحت 1,800 کلومیٹر طویل سڑک بنائی جا رہی ہے جو ہر موسم میں کھلی رہی گی۔ مذکورہ سڑک ریاست ارون چل پردیش کے شہر توانگ سے شروع ہوتی ہوئی اس علاقے تک جائے گی جہاں بھارت اور چین کی درمیانی سرحد برما سے جا ملتی ہے۔

یہ سڑک ریاست ارون چل پردیش کے چار دور دراز اور کم آبادی والے سرحدی اضلاع میں بکھری ہوئی چھوٹی چھوٹی آبادیوں کو ایک دوسرے سے جوڑے گی۔ اس کے علاوہ اس سڑک کی تعمیر سے پہاڑی علاقوں کے کسانوں کو اپنی دیسی فصلیں اور طبّی جڑی بوٹیاں قریبی ریاست آسام کی بڑی منڈیوں میں فروخت کرنے کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے۔

ارون چل پردیش سے ہی تعلق رکھنے والے بھارت کے نائب وزیر داخلہ کھرن رجیجو کا کہنا ہے کہ ’اس سڑک سے ہمارا دفاع مضبوط نہیں ہوگا بلکہ اس سے ان دور دراز آبادیوں کو معاشی ترقی کے مواقع ملیں گے جنھیں اتنے عرصے سے محروم رکھا گیا ہے۔‘

لیکن بھارت کے فوجی افسران تسلیم کرتے ہیں کہ اس سڑک سے بھارت کو اپنا دفاع مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔

دیکھا جائے تو یہ منصوبہ دراصل بھارت کی عسکری قیادت کی سوچ میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ ماضی میں فوج سرحد کے قریب سڑکوں کی اس خدشے کے تحت مخالفت کرتی رہی ہے کہ چین کے ساتھ کسی تنازعے کی صورت میں چین یہی سڑکیں استعمال کر کے بہت تیزی کے ساتھ بھارت کے اندرونی علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔

اس تناظر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مذکورہ بھارتی منصوبے سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک نیا تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

دنیا کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ان دو ممالک کے درمیان ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں مختلف مقامات پر سرحدی تنازعات بہت پرانے ہیں اور اس بنیاد پر دونوں کے درمیان سنہ 1962 میں ایک مختصر جنگ بھی ہو چکی ہے۔

نوآبادیاتی ماضی

نئے بھارتی منصوبے کے حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان ’نوآبادیاتی دور‘ کا یہ سرحدی تنازع مزید ’پیچیدہ‘ ہو سکتا ہے۔

بیجنگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر ہونگ لی کا کہنا تھا: ’ ہمیں امید ہے کہ جب تک اس سلسلے میں حتمی تصفیہ نہیں ہو جاتا بھارت اس وقت تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سرحدی علاقوں کے امن اور خوشحالی کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں جن سے سرحدی تنازعے کے حتمی اور مناسب حل کی راہ بھی ہموار ہو۔‘

زیادہ تر چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایک ایسے علاقے میں اتنا بڑا منصوبے شروع کر دے جہاں پر ایک تنازع چل رہا ہے۔ ایک مشہور تحقیقی ادارے سے منسلک ماہر کانگ کین کہتے ہیں کہ ’ایک مرتبہ جب تنازع حل ہو جائے اور سرحد کا واضح تعیّن ہو جائے تو بھارت اپنے علاقوں میں اس قسم کی سڑکیں بنا سکتا ہے، لیکن کسی متنازع علاقے میں کوئی سڑک بنانا مناسب نہیں ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ارون چل پردیش میں سڑکوں کی حالت خراب ہے جس کی وجہ سے یہاں فوجی ساز و سامان کی ترسیل مشکل ہے

مسٹر کانگ کین کا کہنا ہے کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ’بی سی آئی ایم‘ نامی ہائی وے تعمیر کرے جو بھارت کے مغربی شہر کولکتہ سے شروع ہو کر بنگلہ دیش، آسام، منی پور اور برما کے شمالی صوبوں سے گزرتی ہوئی چین کے صوبہ ینان تک آئے۔

’بنگلہ دیش چائنا انڈیا میانمار ہائی وے‘ ہی وہ منصوبہ ہے جس سے خطے کی ممالک کے درمیان معاشی تعاون بڑھ سکتا ہے، تمام ملکوں کے سرحدی صوبوں میں ترقی ہو سکتی ہے اور اس سے باہمی اعتبار کی فضا پیدا ہو سکتی ہے جس سے سرحدی تنازعات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔‘

فی الحال بھارت مذکورہ منصوبے پر عمل کرنے میں کوئی تیزی نہیں دکھا رہا اور اس کا کہنا ہے ابھی وہ محض ممکنات کا ’جائزہ‘ لے رہا ہے۔

بھارت کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مطالبات کے جواب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کی جانب سے کسی ممکنہ خطرے کے دفاع کے لیے اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں اور اطلاعات کے مطابق چین نے تبت میں فوج کے استعمال کے لیے ریل کی نئی پٹڑیاں، سڑکیں اور کم از کم پانچ نئے فضائی اڈے بنانا شروع کر دیے ہیں۔

بھارتی فوجی افسران کے مطابق ریل کی موجودہ پٹڑی کو بھی لاہسا سے آگے بڑھا کر ارون چل پردیش کی سرحد تک لے جایا جا رہا ہے۔

مشرقی بھارت میں فوج کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جے آر مکھرجی کہتے ہیں کہ ’چین نے تبت میں اپنی دفاعی تنصیبات میں بے شمار اضافہ کر لیا ہے، ہم تو محض خود کو اس کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ ہم جب تک ایسا نہیں کرتے، چین کسی بھی وقت سرحد پر ہمارا بازو مروڑ کر اپنی شرائط منوا سکتا ہے۔‘

گزشتہ ماہ چین اور بھارت کے فوجی دو ہفتے تک لداخ میں ایک دوسرے کے سامنے لڑائی کے لیے تیار کھڑے رہے۔اس دوران جب چین کے صدر بھارت کے دورے پر تھے تو بھارت نے الزام لگایا تھا کہ چین نے ایک مرتبہ پھر ان کے علاقے میں دخل اندازی کی ہے۔

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ لداخ کی سرحد پر گڑ بڑ ہی وہ واقعہ تھا جس نے بھارت کے خدشات میں اضافہ کر دیا تھا جس کے بعد بھارت نے اُس طویل سڑک کی تعمیر کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے اب چین کو پریشانی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں