عبوری سرحد پر باقاعدہ تجارت کی خواہش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایل او سی کے ذریعے 21 اشیا کی تجارت کی اجازت ہے لیکن نقد لین دین پر پابندی ہے

چھ سال قبل جب بھارت اور پاکستان نے تلخیاں فراموش کر کے لائن آف کنٹرول کے ذریعہ کشمیری خطوں کے درمیان تجارت بحال کرنے کا اعلان کیا تو توقعات کا گراف آسمان کو چھو رہا تھا۔

آج حالت یہ ہے کہ بھارتی کشمیر میں سیلاب نے مقامی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اربوں روپے کے خسارے کا حساب لگانے والے مقامی تاجر حسرت بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ کاش اس عبوری سرحد کے ذریعے ہونے والی یہ محدود تجارت باقاعدہ ہوتی۔

ان کا کہنا ہے کہ راولپنڈی روڈ سے ہونے والی تجارت پر عائد پابندیاں ہٹا دی جائیں تو کشمیر کی معیشت کو چار چاند لگ جائیں گے۔

21 اکتوبر 2008 کو پونچھ ۔ راولاکوٹ اور اوڑی ۔ چکوٹھی تجارتی مراکز کے ذریعہ جنس برائے جنس کے اصول کے تحت جو تجارت شروع کی گئی تھی، وہ آج بھی نقد لین دین، ٹیلی فون رابطوں اور تجارتی سازوسامان کی فہرست میں اضافے کی محتاج ہے۔

اس تجارت کی چھٹی سالگرہ ایسے وقت آئی ہے جب یہاں کے تاجر سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ تاجر حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر انھیں معاوضہ دینے میں تاخیر ہو رہی ہے تو کم از کم راولپنڈی روڈ کو باقاعدہ تجارت کے لیے کھول دیا جائے۔

تاجروں کو شکایت ہے کہ تجارتی رابطوں کے ذریعہ امن کے فروغ کے لیے ملکی سطح پر جو پالیسی مرتب ہوئی تھی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

سیلاب سے متاثرہ تاجروں کی آبادکاری کے لیے بنائے گئے کشمیر ٹریڈرز فورم کے جنرل سیکریٹری سجاد گل کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی معاشی سرگرمیوں کو ہر سطح پر قدغنوں اور پابندیوں کا شکار بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے: ’اس خطرناک آفت کے بعد ہماری تجارت کو بحال کرنے کے لیے مظفرآباد روڈ کو عام تجارت کےلیے کھولنا ایک معقول قدم ہوگا لیکن حکومت اُلٹا اس تجارت کو مزید پابندیوں کا شکار بنا رہی ہے۔ حکومت کے یہ اقدامات خطرناک نتائج برآمد کر سکتے ہیں۔‘

واضح رہے ستمبر کے اوائل میں ہی کشمیر میں تباہ کن سیلاب نے تعلیم، تجارت اور زندگی کے تمام دیگر شعبوں کو منجمد کر دیا تھا۔

چھ ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک وادی کی تجارتی شہ رگ لال چوک میں تجارتی سرگرمیاں بحال نہیں ہو پائی ہیں اور تاجر حلقے حکومت سے فوری معاوضے کے مطالبے پر تحریک چلا رہے ہیں۔

علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق نے تو یہاں تک کہا ہے کہ تجارتی رابطوں کی بحالی کو وہ مسئلہ کشمیر کا اہم پہلو سمجھتے ہیں اور اسے بھارت اور پاکستان کے ساتھ مذاکرت کے دوران مزید شدت کے ساتھ زیرِ بحث لانے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 21 اکتوبر 2008 کو پونچھ ۔ راولاکوٹ اور اوڑی ۔ چکوٹھی تجارتی مراکز کے ذریعہ جنس برائے جنس اصول کے تحت جو تجارت شروع کی گئی تھی

واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان نے تعلقات بہتر بنانے کی غرض سے چھ برس قبل شمالی کشمیر میں اوڑی اور جنوبی کشمیر میں پونچھ کے مقام پر لائن آف کنٹرول پر دو الگ الگ تجارتی مراکز قائم کیے جن کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیری خطوں کے درمیان تجارت بحال کی گئی۔

ان مراکز کے ذریعہ ہفتے میں چار روز تجارت ہوتی ہے۔ اس تجارت کے لیے 21 اشیا کی اجازت دی گئی جن میں سبزیاں اور میوہ جات بھی شامل ہیں لیکن نقد لین دین پر چھ سال گزرنے کے بعد آج بھی پابندی ہے۔

چند ماہ قبل پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے بزنس چیمبر کے کئی نمائندوں نے کشمیر کا دورہ کیا تھا۔

اس وفد میں شامل ذوالفقار عباسی اور صغیر احمد نے بتایا کہ حکومت ایل او سی کے ذریعے ہونے والی تجارت کو بدنام کرنے کے لیے تاجروں پر سمگلنگ کا الزام عائد کرتی ہے۔

ذوالفقار عباسی کا کہنا تھا: ’دونوں جانب کی حکومتیں اس بات سے واقف ہیں کہ تجارت بحال ہوگئی تو مسئلہ کشمیر حل کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ میں حیران ہوں کہ اس تجارت کی راہ میں روڑے کیوں اٹکائے جا رہے ہیں؟‘

یہ بات بھی اہم ہے کہ لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کرنے والے تاجروں کو نقد لین دین کے لیے بینکنگ اور رابطے کے لیے ٹیلی فون کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔

محمد ایوب نامی کشمیری تاجر کہتے ہیں: ’آج کل انٹرنیٹ پر رابطہ بالکل آسان ہو گیا ہے۔ ہم لوگ اُس پار موبائل فون پر واٹس ایپ کے ذریعہ رابطہ کرتے ہیں لیکن حکومت اپنی تاناشاہی برقرار رکھنے کے لیے ٹیلی فون پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔‘

ان کے مطابق: ’دراصل حکومت کی پالیسی ہے کہ اس تجارت کی حوصلہ شکنی کی جائے، یہ ہر مرحلہ پر رکاوٹیں اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔‘

اسی بارے میں