کشمیر کو مودی کیسے فتح کریں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مودی کے سری نگر کے قیام کو کشمیر کے علیحدگی پسندوں نے ’ثقافتی حملہ‘ قرار دیا ہے

جمعرات کو جب پورا بھارت روشنیوں کا تہواردیوالی منا رہا تھا اس وقت وزیراعظم نریندر مودی کشمیر کے تباہ کن سیلاب کے متاثرین سے اتحاد کے اظہار کے لیے سری نگر میں قیام پذیر تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب مودی نے اس طرح کا علامتی پیغام دیا ہو۔ 13 برس قبل جب گجرات میں تباہ کن زلزلہ آیا تھا اس وقت بھی مودی دیوالی کے موقعے پر بھوج کے تباہ شدہ شہر کے باشندوں کے ساتھ تھے۔

مودی کے سری نگر کے قیام کو اگر علیحدگی پسندوں نے ’ثقافتی حملہ‘ قرار دیا تو وہیں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے اسے ’سیاسی موقع پرستی‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی نے یہ قدم بھارت کے زیرانتطام جموں و کشمیر میں جلد ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اٹھایا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی گذشتہ چھ مہینے میں چار بار کشمیر کا دورہ کر چکے ہیں۔ شاید ہی کسی وزیراعظم نے اتنی کم مدت میں اتنی بار وادی کا دورہ کیا ہے۔ دہلی کے بعد کشمیر کی فتح مودی کا ایک اہم سیاسی اور نظریاتی ایجنڈہ ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر کی ریاستی سیاست میں ابھی تک کوئی اہم مقام نہیں رکھتی تھی۔ نیشنل کانفرنس کانگریس اور پی ڈی پی پچھلے کئی برسوں سے ریاست کی سیاست پر غالب رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر سے بے دخل ہونے والے کشمیری پنڈتوں روایتی طور پر بی جے پی کے حامی رہے ہیں۔

تجزیوں اور مختلف جائزوں کے مظابق ریاست میں کانگریس اور وزیراعلٰی عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے خلاف عوام میں شدید بیزاری ہے اور آئندہ مہینوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کا وہی حشر ہو سکتا ہے جو مرکز میں کانگریس کا ہوا ہے۔ معمول کے مطابق کانگریس اور نیشنل کانگریس کی شکست کی صورت میں محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی اقتدار میں آتی لیکن اس بار شاید ایسا نہ ہو۔

وزیر اعظم مودی نے کشمیر میں اقتدار میں آنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی نے جموں کی دو سیٹوں اور لداخ کی واحد سیٹ پر کامیابی حاصل کی۔ پارٹی نے پہلی بار 87 رکنی اسمبلی میں جموں اور لداخ خطے کی 41 سیٹوں میں سے 27 اسمبلی حلقوں میں برتری حاصل کی تھی۔ بی جے پی نے کشمیر کے لیے ’مشن 44‘ کا ہدف رکھا ہے۔

لوک سبھا کے انتخابات میں کشمیر وادی کی 46 سیٹوں میں کسی پر بھی بی بے پی کو کامیابی نہیں مل سکی تھی لیکن اسمبلی انتخابات کے لیے اس بار پارٹی نے مسلم اکثریت والی وادی کی کم از کم 10 نشستوں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وادی میں علیحدگی پسندوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کر رکھی ہے جو بی جے پی کے حق میں جاتی ہے

وادی میں بی جے پی کی حکمت عملی کا محور دو پہلوؤں پر مرکوز ہے۔ پہلا یہ کہ وہ کشمیر سے بے دخل ہونے والے کشمیری پنڈتوں کو بڑے پیمانے پر ووٹ دینے کی ترغیب دے رہی ہے۔ روایتی طور پر پنڈت بی جے پی کے حامی رہے ہیں۔ دوسرا اس کا انحصار علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کی اپیل پر ہے جو اس کے حق میں جاتا ہے۔

حکمراں نیشنل کانفرنس اور کانگریس اس بار الگ الگ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ یہ بھی بی جے پی کے حق میں ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں ریاست کے کئی اہم اور سرکردہ مسلمانوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ان تمام عوامل کے ساتھ حکمراں اتحاد سے بیزاری اور ایک نئی پارٹی کا تجربہ بی جے پی کو اقتدار میں لا سکتا ہے۔

اگر ایسا ہوا تو جموں و کشمیر کی پوری سیاست کا تناظر بدل سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم مودی نے کشمیر کی فتح کے لیے جو حکمت عملی تیار کی ہے وہ عملی طور پر کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ مودی کے انتخابی ماہرین اس وقت ’مشن کشمیر‘ کی اس حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں