ایران میں ریحانہ جباری کو سزائے موت دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

ایران نے اپیلوں کے باوجود قتل کے جرم میں ریحانہ جباری کو سزائے موت دے دی ہے۔

ریحانہ جباری کا موقف رہا تھا کہ انھوں نے جنسی استحصال کی کوشش کرنے پر اپنے دفاع میں قتل کیا۔

26 سالہ ریحانہ جباری کو سال2007 میں ایرانی انٹلیجنس کے سابق اہلکار مرتضیٰ عبدل علی سربندی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی کے مطابق ریحانہ جباری کو ناقص تحقیقات کی بنا پر قصوروار ٹھہرایا گیا۔

ریحانہ کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے لیے فیس بک اور ٹوئٹر پر گذشتہ ماہ سے مہم چلائی جا رہی تھی اور بظاہر ان کی پھانسی کو عارضی طور پر ملتوی بھی کیا گیا۔

تاہم سرکاری خبر رساں ادارے ایسنا نے سنیچر کو خبر دی کہ ریحانہ جباری کو پھانسی دے دی گئی کیونکہ ان کے رشتہ دار متاثرہ خاندان سے معافی حاصل نہیں کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ریحانہ جباری کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مہم چلائی جا رہی تھی

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ریحانہ کو عدالت میں اپنے دفاع کے لیے وکیل مہیا کیا گیا تھا۔

ریحانہ کی والدہ شعلہ پاکروان نے بی بی سی فارسی سروس سے بات کرتے ہوئے پھانسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی لاش دیکھنے جا رہی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اگرچہ ریحانہ نے تسلیم کیا تھا کہ انھوں نے عبدل علی کی کمر پر وار کیا تھا تاہم ان کا موقف تھا کہ گھر میں کوئی موجود تھا جس نے عبدل کو قتل کیا۔

اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے بعد ریحانہ کو دو ماہ تک وکیل تک رسائی نہیں دی گئی اور سال 2009 میں تہران کی ایک عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی تھی جس پر سنیچر کو عمل درآمد کیا گیا۔

اسی بارے میں